غزہ (کیو این این ورلڈ): غزہ میں جاری انسانی المیے اور سنگین بحران کے پیشِ نظر برطانیہ، فرانس، جرمنی، کینیڈا، آسٹریلیا، جاپان، جنوبی کوریا، اٹلی، نیوزی لینڈ اور ہالینڈ سمیت دنیا کے 10 اہم ممالک کے وزرائے خارجہ نے اسرائیل سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ وہ امداد کی راہ میں حائل تمام رکاوٹیں فوری طور پر ختم کرے۔ ان ممالک نے اپنے ایک مشترکہ بیان میں خبردار کیا ہے کہ غزہ میں تقریباً 16 لاکھ افراد شدید غذائی قلت کا شکار ہیں، جبکہ سردی کی لہر اور بارشوں نے پہلے سے تباہ حال 13 لاکھ پناہ گزینوں کی زندگیوں کو مزید خطرے میں ڈال دیا ہے۔ ان ممالک نے مطالبہ کیا ہے کہ اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے ‘انروا’ (UNRWA) کو متاثرہ علاقوں تک مکمل رسائی دی جائے اور رفح سمیت تمام سرحدی گزرگاہوں کو کھول کر انسانی ہمدردی کی بنیاد پر امداد کی فراہمی میں خاطر خواہ اضافہ کیا جائے۔
دوسری جانب اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے اسرائیل کے ان اقدامات پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے سخت ردعمل دیا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا ہے کہ ‘انروا’ کے خلاف قانون سازی اور امداد کی بندش سے غزہ میں انسانی امداد کا پورا ڈھانچہ منہدم ہو جائے گا، جس کے تباہ کن نتائج برآمد ہوں گے۔ سیکریٹری جنرل نے واضح کیا کہ غزہ میں ‘انروا’ کا کوئی متبادل موجود نہیں ہے اور اسرائیل کی جانب سے اس ادارے کی سرگرمیوں کو روکنا بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ معصوم جانیں بچانے کے لیے اسرائیل پر دباؤ ڈالے تاکہ امداد کی بلاتعطل ترسیل ممکن ہو سکے، کیونکہ اسرائیلی پابندیوں کی وجہ سے ہزاروں خاندان فاقہ کشی پر مجبور ہیں اور غزہ میں خوراک و پانی کی قلت جان لیوا حد تک بڑھ چکی ہے۔