سابق چیف جسٹس آف پاکستان میاں ثاقب نثار نے ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک کے تمام ججز نے عوام کے بنیادی حقوق کے تحفظ کا حلف اٹھا رکھا ہے اور یہ ان کی آئینی ذمہ داری ہے کہ وہ اس عہد کو پورا کریں۔ انہوں نے قانون کی حکمرانی کو ریاست کے لیے ناگزیر قرار دیتے ہوئے واضح کیا کہ جب تک عدلیہ مکمل آزادی کے ساتھ کام نہیں کرے گی، ملک کی سمت درست نہیں ہو سکتی۔ ان کا کہنا تھا کہ کیا آج کے دور میں شہریوں کو ان کے بنیادی حقوق میسر ہیں؟ اور اگر ایسا نہیں ہے تو ان حقوق کے تحفظ کی ذمہ داری ججز پر عائد ہوتی ہے کیونکہ انہوں نے اسی مقصد کے لیے قسم اٹھائی ہے، لہٰذا عدلیہ کو اپنے فرائض کی ادائیگی میں کسی مصلحت کا شکار نہیں ہونا چاہیے۔

سابق چیف جسٹس نے ملک کے سیاسی نظام پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اگر انتخابات شفاف نہیں ہوں گے تو جمہوریت کا وجود برقرار نہیں رہ سکتا، کیونکہ کوئی بھی ریاست آئین اور قانون کی بالادستی کے بغیر نہیں چل سکتی۔ انہوں نے پانی کی قلت کے بڑھتے ہوئے مسائل پر بھی تشویش کا اظہار کیا اور سوال اٹھایا کہ کیا ہم اپنی آنے والی نسلوں کو بچانے کے لیے اپنا قومی فرض ادا کر رہے ہیں؟ میاں ثاقب نثار نے اپنے دورِ منصب کا ذکر کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ انہوں نے اپنے تمام فیصلے عوامی فلاح و بہبود اور ملک کے بہتر مستقبل کو مدنظر رکھ کر کیے تھے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان کو درپیش بحرانوں سے نکالنے کا واحد راستہ آئین کی پاسداری اور اداروں کی مضبوطی میں پنہاں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے