ڈھاکا(ویب ڈیسک) بنگلہ دیش کی سابق وزیراعظم اور بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) کی سربراہ خالدہ ضیا 80 برس کی عمر میں طویل علالت کے بعد انتقال کر گئیں۔ پارٹی کی جانب سے ان کے انتقال کی باضابطہ تصدیق کر دی گئی ہے۔
خالدہ ضیا بنگلہ دیش کی پہلی خاتون وزیراعظم تھیں اور ملک کی سیاست میں ایک طویل عرصے تک مرکزی کردار ادا کرتی رہیں۔ وہ کافی عرصے سے جگر کے عارضے سمیت متعدد بیماریوں میں مبتلا تھیں اور اسپتال میں زیر علاج تھیں۔ گزشتہ روز ڈاکٹروں نے ان کی حالت انتہائی تشویشناک قرار دی تھی۔
بنگلہ دیشی میڈیا کے مطابق ان کا علاج کرنے والے میڈیکل بورڈ کے رکن ڈاکٹر ضیاء الحق نے بتایا کہ خالدہ ضیا کو لائف سپورٹ اور وینٹی لیٹر پر رکھا گیا تھا جبکہ انہیں باقاعدگی سے ڈائیلاسس بھی کیا جا رہا تھا۔ ڈاکٹر کے مطابق ڈائیلاسس روکنے پر ان کی حالت مزید بگڑ جاتی تھی۔ زیادہ عمر اور متعدد پیچیدہ بیماریوں کے باعث ایک ساتھ مؤثر علاج ممکن نہ رہا۔
رپورٹس کے مطابق خالدہ ضیا کو گزشتہ ماہ 23 نومبر کو دل اور پھیپھڑوں میں انفیکشن کی شکایت پر اسپتال منتقل کیا گیا تھا، جہاں ان کی حالت مسلسل بگڑتی چلی گئی۔ ان کے نظامِ تنفس اور دیگر اہم اعضاء کو سہارا دینے کے لیے طبی عملے نے انہیں وینٹی لیٹر پر رکھا ہوا تھا۔
خالدہ ضیا نے 1991 سے 1996 اور پھر 2001 سے 2006 تک دو مرتبہ بنگلہ دیش کی وزیراعظم کے طور پر خدمات انجام دیں۔ وہ بنگلہ دیش کے سابق صدر ضیاء الرحمان کی اہلیہ تھیں۔ اپنے طویل سیاسی کیریئر کے دوران ان پر کرپشن کے الزامات بھی لگے اور 2018 میں انہیں پانچ برس قید کی سزا سنائی گئی تھی۔
خالدہ ضیا کے انتقال پر بنگلہ دیش کی سیاسی و سماجی حلقوں میں گہرے رنج و غم کا اظہار کیا جا رہا ہے، جبکہ مختلف سیاسی رہنماؤں اور کارکنوں نے ان کے انتقال کو ملک کے لیے ایک بڑا سیاسی نقصان قرار دیا ہے۔