پنجاب بھر میں شدید دھند کے باعث حدِ نگاہ انتہائی کم ہونے سے ٹریفک حادثات میں خطرناک حد تک اضافہ ہو گیا، مختلف واقعات میں کم از کم 6 افراد جاں بحق جبکہ 30 سے زائد زخمی ہو گئے۔

صادق آباد کے قریب دھند کے باعث ایک مسافر بس الٹ گئی، جس کے نتیجے میں 3 افراد موقع پر جاں بحق جبکہ 15 زخمی ہو گئے۔ زخمیوں کو فوری طور پر رحیم یار خان کے اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں کئی افراد کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔ اسی علاقے میں ظاہر پیر انٹرچینج کے قریب ایک اور بس حادثے کا شکار ہوئی، جس میں 5 مسافر زخمی ہو گئے۔

دوسری جانب فیصل آباد میں شدید دھند کے باعث مختلف ٹریفک حادثات میں 3 افراد جاں بحق جبکہ 16 افراد زخمی ہو گئے، ہلاک ہونے والوں میں دو سالہ بچہ بھی شامل ہے۔ ریسکیو حکام کے مطابق یہ حادثات شہر کے مختلف علاقوں میں گاڑیوں کے باہمی تصادم کے نتیجے میں پیش آئے۔

شدید دھند کے باعث موٹر وے پولیس نے حفاظتی اقدامات کے تحت پنجاب کی متعدد موٹر ویز عارضی طور پر بند کر دی ہیں، جن میں ایم-2 لاہور سے ہرن مینار، ایم-3 فیض پور سے رجانہ، ایم-4 پنڈی بھٹیاں سے ملتان اور ایم-5 ملتان سے روہڑی تک شامل ہیں۔

موٹر وے پولیس کے ترجمان سید عمران احمد نے شہریوں کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ دھند میں لین کی خلاف ورزی جان لیوا حادثات کا سبب بن سکتی ہے، اس لیے غیر ضروری سفر سے گریز اور لین ڈسپلن پر سختی سے عمل کیا جائے۔

محکمہ موسمیات کے مطابق پنجاب کے میدانی علاقوں میں دھند کا یہ سلسلہ مزید چند روز جاری رہنے کا امکان ہے۔ شہریوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ فوگ لائٹس کا استعمال کریں، گاڑیوں کے درمیان مناسب فاصلہ رکھیں اور حتیٰ الامکان دن کے اوقات میں سفر کریں۔

ریسکیو 1122 اور موٹر وے پولیس کی ٹیمیں ہائی الرٹ ہیں، جبکہ عوام سے اپیل کی گئی ہے کہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں 1122 یا موٹر وے پولیس ہیلپ لائن 130 پر فوری رابطہ کریں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے