بیجنگ (ویب ڈیسک): شادی اور حاملہ ہونے پر لاکھوں کے جرمانے، چینی گاؤں میں ’عجیب و غریب‘ قانون پر کہرام مچ گیا، حکومت کو مداخلت کرنا پڑ گئی

چین کے صوبہ یونان کے ایک چھوٹے سے گاؤں میں انتظامیہ کی جانب سے جاری کردہ "ویلج رولز” نے ملک بھر میں ایک نیا تنازع کھڑا کر دیا ہے، جس کے تحت شہریوں کی نجی زندگی، شادی اور حمل جیسے انتہائی ذاتی معاملات پر بھاری جرمانے عائد کرنے کا اعلان کیا گیا تھا۔ دسمبر 2025 کے وسط میں جاری ہونے والے اس نوٹس کے مطابق دوسرے صوبے میں شادی کرنے پر 1500 یوان (تقریباً 65 ہزار پاکستانی روپے)، نکاح کے بغیر حاملہ ہونے یا شادی کے محض 10 ماہ کے اندر بچہ پیدا ہونے پر 3000 یوان (تقریباً ایک لاکھ 30 ہزار روپے) جرمانہ مقرر کیا گیا تھا۔ اسی طرح بغیر نکاح کے ساتھ رہنے والے جوڑوں پر سالانہ 500 یوان اور گھریلو جھگڑے کی صورت میں سرکاری افسران کو بلانے پر فی کس 500 یوان جرمانہ ادا کرنے کی شرط رکھی گئی تھی۔ ان خود ساختہ قوانین نے نہ صرف مقامی آبادی بلکہ سوشل میڈیا صارفین کو بھی ورطۂ حیرت میں ڈال دیا ہے اور اسے انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا جا رہا ہے۔

اس عجیب و غریب نوٹس کے منظرِ عام پر آتے ہی چینی سوشل میڈیا، بالخصوص "ویبو” پر صارفین نے شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے اسے شادی کی آزادی اور آئینی حقوق پر حملہ قرار دیا۔ عوامی تنقید میں کہا گیا کہ گاؤں کی انتظامیہ کو ایسے جرمانے عائد کرنے کا کوئی قانونی اختیار حاصل نہیں ہے اور یہ قواعد پرائیویسی میں براہِ راست مداخلت کے مترادف ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ چین جہاں پہلے ہی آبادی میں کمی کے بحران سے نمٹنے کے لیے شادیوں اور شرحِ پیدائش کو فروغ دینے کی کوششیں کر رہا ہے، وہاں اس قسم کی پابندیاں ملکی مفاد کے بھی برعکس ہیں۔ ناقدین نے دوسرے صوبوں میں شادی کرنے پر جرمانے کو علاقائی امتیاز قرار دیتے ہوئے اسے جدید معاشرے میں ایک غیر منطقی اور جاہلانہ اقدام قرار دیا۔

عوامی دباؤ اور معاملے کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے مقامی ٹاؤن گورنمنٹ نے فوری کارروائی کرتے ہوئے ان تمام قواعد کو غیر قانونی قرار دے کر منسوخ کر دیا ہے۔ حکومتی ترجمان کے مطابق یہ نوٹس گاؤں کے ایک مخصوص گروہ نے اعلیٰ حکام کی منظوری یا اطلاع کے بغیر خود سے جاری کیا تھا، جسے اب مکمل طور پر ہٹا دیا گیا ہے اور کسی بھی شہری سے کوئی جرمانہ وصول نہیں کیا جائے گا۔ چینی میڈیا کے مطابق دیہی علاقوں میں کبھی کبھار روایتی اثر و رسوخ یا مالی مفادات کے تحت ایسے سخت قواعد بنانے کی کوشش کی جاتی ہے، تاہم ملکی قوانین ایسے کسی بھی اقدام کی اجازت نہیں دیتے۔ حکومت نے واضح کیا ہے کہ تمام مقامی قواعد و ضوابط کو ملکی آئین اور شادی کے قوانین کے دائرہ کار میں رہ کر مرتب کیا جانا چاہیے تاکہ شہریوں کی آزادی برقرار رہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے