برطانوی جریدے فنانشل ٹائمز نے اپنی حالیہ رپورٹ میں چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی متاثر کن شخصیت اور سفارتی بصیرت کا اعتراف کرتے ہوئے انہیں بدلتے ہوئے عالمی نظام میں ایک انتہائی مؤثر اسٹریٹجک رہنما اور کثیر الجہتی خارجہ پالیسی کا ماہر قرار دیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق، موجودہ دور کی بدلتی ہوئی عالمی سیاست نے دنیا کی درمیانی طاقتوں (Middle Powers) کے لیے جہاں نئے مواقع پیدا کیے ہیں، وہیں ان کے لیے پیچیدہ چیلنجز بھی کھڑے کر دیے ہیں، تاہم فیلڈ مارشل عاصم منیر ان حالات میں دنیا کے سب سے کامیاب ‘ملٹی الائنرز’ بن کر ابھرے ہیں۔ جریدے نے انکشاف کیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ بہترین ہم آہنگی اور تال میل پیدا کرنے کا اعزاز پاکستان کے عسکری سربراہ کو جاتا ہے، جنہوں نے انتہائی مہارت کے ساتھ پاکستان کے مفادات کو عالمی سطح پر اجاگر کیا ہے۔

فنانشل ٹائمز نے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کو درمیانی طاقتوں کی کامیاب سفارت کاری کی ایک روشن مثال قرار دیتے ہوئے لکھا ہے کہ ان کی قیادت میں پاکستان واشنگٹن، بیجنگ، ریاض اور تہران جیسے اہم عالمی مراکز کے درمیان بیک وقت متحرک روابط برقرار رکھنے میں کامیاب رہا ہے۔ جریدے کے مطابق فیلڈ مارشل کی جانب سے صدر ٹرمپ کے ساتھ اپنایا گیا بروقت خوش گفتاری اور نرم سفارتی رویہ پاکستان کے حق میں انتہائی مؤثر ثابت ہوا ہے، جس نے پاکستان کی عالمی اہمیت کو مزید مستحکم کر دیا ہے۔ اس سفارتی کامیابی نے خطے کے دیگر ممالک بالخصوص بھارت کو شدید مایوس کیا ہے، کیونکہ نئی دہلی بدلتے ہوئے عالمی حالات اور ٹرمپ کے منفرد مزاج کے ساتھ ہم آہنگ ہونے میں ناکام رہا ہے، جس کے باعث ہندوستان کو اپنی ‘مڈل پاور’ حکمت عملی میں شدید مشکلات اور ناکامی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

برطانوی جریدے نے مزید لکھا ہے کہ پاکستان کی عسکری قیادت نے جس طرح پیچیدہ عالمی ماحول میں ملک کی سفارت کاری کو آگے بڑھایا، اس نے پاکستان کو عالمی سطح پر ایک کلیدی کھلاڑی کے طور پر دوبارہ لا کھڑا کیا ہے۔ رپورٹ میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ بھارت کے برعکس پاکستان نے عالمی طاقتوں کے درمیان توازن برقرار رکھنے کا فن سیکھ لیا ہے، جو کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر کی اسٹریٹجک مہارت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس نئی صورتحال نے نہ صرف پاکستان کا سفارتی قد کاٹھ بڑھایا ہے بلکہ خطے میں طاقت کے توازن کو بھی پاکستان کے حق میں تبدیل کر دیا ہے، جس کے دور رس اثرات آنے والے سالوں میں مزید واضح ہوں گے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے