اسلام آباد (کیو این این ورلڈ) ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (ڈریپ) نے عوامی صحت کے تحفظ کے لیے جعلی اور غیر رجسٹرڈ ادویات کے خلاف جاری ملک گیر مہم کے تحت تین ادویات کے مخصوص بیچز کو جعلی اور مضرِ صحت قرار دیتے ہوئے ان کی فروخت، تقسیم اور استعمال پر فوری پابندی عائد کر دی ہے۔ یہ اقدام 30 دسمبر 2025 کو جاری کیے گئے دو ریپڈ الرٹس کی بنیاد پر کیا گیا ہے، جن میں درد کش ادویات اور معدے کی ایک معروف دوا شامل ہے۔ ڈریپ کے مطابق یہ ادویات غیر قانونی طور پر تیار کی گئیں اور ان کا استعمال جان لیوا ثابت ہو سکتا ہے، بالخصوص بچوں، بوڑھوں اور دائمی امراض میں مبتلا مریضوں کے لیے۔
ڈریپ نے اپنی ریگولیٹری فیلڈ فورس کو ہدایت کی ہے کہ مارکیٹ میں موجود ان جعلی بیچز کی فوری نشاندہی کر کے انہیں ضبط کیا جائے، جبکہ ڈسٹری بیوٹرز، فارمیسیوں اور میڈیکل اسٹورز کو ان ادویات کو فوری طور پر شیلف سے ہٹانے کے احکامات جاری کر دیے گئے ہیں۔ صحت کے ماہرین اور عوام کو مشورہ دیا گیا ہے کہ اگر یہ ادویات استعمال کی جا چکی ہوں تو فوری طور پر ڈاکٹر سے رجوع کریں اور کسی بھی منفی اثر کی رپورٹ ڈریپ یا نیشنل فارماکو ویجیلنس سینٹر کو دی جائے۔ ڈریپ کا کہنا ہے کہ جعلی ادویات کے کاروبار کے خاتمے اور عوامی صحت کے تحفظ کے لیے ایسی کارروائیاں آئندہ بھی جاری رہیں گی۔
ڈریپ کے مطابق جعلی قرار دی گئی ادویات میں تسکین درد گولیاں (Taskeen-e-Dard Tablets) بیچ نمبر 091 شامل ہیں، جو ایک درد کش دوا ہے اور جس میں Diclofenac Sodium فعال جزو کے طور پر پایا گیا ہے۔ اس دوا کو M/s Leo Health Care & Research Laboratories، کراچی نے تیار کیا، جو ڈریپ کے ساتھ رجسٹرڈ یا مجاز ادارہ نہیں ہے۔ سینٹرل ڈرگ لیبارٹری (سی ڈی ایل) کراچی نے لیبارٹری ٹیسٹ کے بعد اس دوا کو ’’غیر رجسٹرڈ/جعلی‘‘ قرار دیا ہے۔ ڈریپ کے مطابق اس دوا کے استعمال سے علاج کی ناکامی، بیماری میں اضافہ، معدے سے خون بہنے، گردوں کی خرابی اور دل کے مسائل جیسے سنگین خطرات لاحق ہو سکتے ہیں، خاص طور پر کم آمدنی والے مریضوں، بوڑھوں اور دائمی درد کے شکار افراد کے لیے۔
اسی طرح پین نل گولیاں (Pain Nil Tablets) بیچ نمبر 01 بھی جعلی قرار دی گئی ہیں، جو Diclofenac Sodium پر مشتمل درد کش دوا ہے۔ یہ دوا M/s Hakeem Purana Dawakhana، کراچی کی جانب سے تیار کی گئی، جو ایک غیر رجسٹرڈ اور غیر مجاز ادارہ ہے۔ سی ڈی ایل کراچی نے اس دوا کو بھی ’’غیر رجسٹرڈ/جعلی‘‘ قرار دیا ہے۔ ڈریپ کے مطابق غیر معیاری کمپوزیشن، ممکنہ آلودگی اور طاقت میں کمی یا زیادتی کے باعث اس دوا کے استعمال سے علاج ناکام ہو سکتا ہے، ڈی ہائیڈریشن، الیکٹرولائٹ عدم توازن اور حتیٰ کہ جان لیوا نتائج بھی سامنے آ سکتے ہیں۔
تیسری جعلی دوا ڈوپھالیک سیرپ (Duphalac Syrup 100ml) بیچ نمبر 251986 ہے، جو معدے کے امراض، قبض اور ہیپاٹک انسیفالوپیتھی کے علاج میں استعمال ہوتی ہے اور جس میں Lactulose 66.7 گرام فی 100 ملی لیٹر شامل ہے۔ اس سیرپ کے لیبل پر تیار کنندہ M/s Abbott Laboratories Co., Canada درج ہے، جسے جعلی قرار دیا گیا ہے۔ اصل کمپنی M/s Abbott Laboratories (Pakistan) Ltd., کراچی اور کنٹریکٹ مینوفیکچرر M/s Highnoon Laboratories Ltd., لاہور نے اس بیچ سے مکمل لاتعلقی کا اظہار کیا ہے۔ ڈرگ ٹیسٹنگ لیبارٹری (ڈی ٹی ایل) پنجاب نے لیبارٹری تجزیے کے بعد اس سیرپ کو ’’جعلی/غیر رجسٹرڈ‘‘ قرار دیا ہے۔ ڈریپ کے مطابق اس دوا کے استعمال سے علاج کی ناکامی، بیماری میں شدت، الیکٹرولائٹ عدم توازن، ڈی ہائیڈریشن اور سنگین صحت مسائل پیدا ہو سکتے ہیں، خاص طور پر بچوں، بوڑھوں اور دائمی قبض یا جگر کے مریضوں کے لیے۔
ڈریپ کا کہنا ہے کہ ان ادویات کی غیر قانونی تیاری اور تقسیم عوامی صحت کے لیے سنگین خطرہ ہے، کیونکہ ریگولیٹری نگرانی کے بغیر ان کی کوالٹی، سیفٹی اور افادیت مشکوک رہتی ہے، جو علاج کی ناکامی اور جان لیوا نتائج کا سبب بن سکتی ہے۔ عوام سے اپیل کی گئی ہے کہ ادویات صرف لائسنس یافتہ فارمیسیوں سے خریدیں، بیچ نمبر اور ایکسپائری تاریخ ضرور چیک کریں اور کسی بھی مشتبہ دوا یا منفی اثر کی فوری اطلاع ڈریپ کو دیں۔ منفی اثرات کی رپورٹنگ کے لیے ڈریپ کی ویب سائٹ پر دستیاب فارم استعمال کیا جا سکتا ہے۔