کراچی (کیو این این ورلڈ) وفاقی حکومت نے ملک میں جعلی نوٹوں کے پھیلاؤ کو روکنے اور کرنسی کو عالمی سیکیورٹی معیار کے مطابق ڈھالنے کے لیے 100 روپے سے لے کر 5 ہزار روپے تک کے نئے کرنسی نوٹوں کی چھپائی کا باقاعدہ فیصلہ کر لیا ہے۔ یہ اقدام محض ڈیزائن کی تبدیلی نہیں بلکہ ایک بڑا معاشی قدم ہے جس کے اثرات براہِ راست عام آدمی پر بھی پڑیں گے۔ نئے نوٹوں کے ڈیزائن میں پاکستان کی تاریخ، جغرافیائی خوبصورتی اور خواتین کی ترقی جیسے اہم موضوعات کو شامل کیا جائے گا تاکہ عالمی سطح پر ملک کا روشن چہرہ پیش کیا جا سکے۔ اس فیصلے کا بنیادی مقصد معیشت کے لیے کینسر بننے والے جعلی نوٹوں کے نیٹ ورک کو توڑنا ہے، کیونکہ نئے نوٹوں میں ایسے پیچیدہ سیکیورٹی فیچرز شامل کیے جائیں گے جن سے اصلی اور نقلی نوٹ کی پہچان انتہائی آسان ہو جائے گی۔

حکومتی ذرائع کے مطابق پرانے نوٹوں کی جگہ نئے نوٹ لانے سے مارکیٹ میں موجود وہ پیسہ بھی بینکنگ سسٹم میں واپس آئے گا جو اس وقت دستاویزی معیشت کا حصہ نہیں ہے۔ یہ اقدام ‘بلیک منی’ یعنی غیر قانونی رقم کے خلاف ایک مؤثر ہتھیار ثابت ہو سکتا ہے، کیونکہ جب شہری اپنے پرانے نوٹ بدلوانے کے لیے بینکوں کا رخ کریں گے تو غیر قانونی رقم کا سراغ لگانا آسان ہو جائے گا۔ اس عمل سے نہ صرف ٹیکس نیٹ میں اضافہ ہوگا بلکہ ملک میں بڑھتے ہوئے افراطِ زر کو کنٹرول کرنے میں بھی مدد ملے گی۔ ماہرینِ معیشت کا کہنا ہے کہ اس بڑے فیصلے سے جہاں دستاویزی معیشت کو فروغ ملے گا، وہیں عام شہریوں کو بھی کرنسی کی تبدیلی کے عمل کے دوران مخصوص اثرات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے