اسلام آباد (ویب ڈیسک) وزیراعظم پاکستان شہباز شریف نے روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کی سرکاری رہائش گاہ کو ڈرونز کے ذریعے نشانہ بنانے کی مبینہ کوشش کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اسے عالمی امن اور استحکام کے لیے ایک سنگین خطرہ قرار دیا ہے۔ سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری اپنے ایک بیان میں وزیراعظم نے واضح کیا کہ اس نوعیت کے گھناؤنے اقدامات نہ صرف سلامتی کو نقصان پہنچاتے ہیں بلکہ ان کوششوں کو بھی سبوتاژ کرتے ہیں جو خطے میں امن کی بحالی کے لیے کی جا رہی ہیں۔ انہوں نے روسی صدر، حکومت اور عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان ہر قسم کے تشدد اور ایسی کارروائیوں کو مسترد کرتا ہے جو بین الاقوامی امن کے لیے خطرہ بنیں۔
واضح رہے کہ روس نے یوکرین پر نوگو روڈ ریجن میں صدر پیوٹن کی رہائش گاہ پر بڑے پیمانے پر حملے کا الزام عائد کیا ہے۔ روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف کے مطابق 28 اور 29 دسمبر کی درمیانی شب یوکرین کی جانب سے 91 طویل فاصلے تک مار کرنے والے ڈرونز فائر کیے گئے، تاہم روسی فضائی دفاعی نظام نے ان تمام ڈرونز کو فضا میں ہی تباہ کر دیا۔ روسی حکام نے اس حملے کو "ریاستی دہشت گردی” قرار دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اس طرح کی لاپرواہ کارروائیوں کا بھرپور جواب دیا جائے گا اور ان حالات میں امن بات چیت سے متعلق روسی موقف کا ازسرِ نو جائزہ لیا جا سکتا ہے۔ روس کا کہنا ہے کہ یہ حملہ ایک ایسے وقت میں کیا گیا جب فریقین کے درمیان ممکنہ امن معاہدے کے لیے بات چیت جاری تھی۔

دوسری جانب یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے ان تمام الزامات کو یکسر مسترد کرتے ہوئے انہیں بے بنیاد اور جھوٹ کا پلندہ قرار دیا ہے۔ یوکرینی صدر کا موقف ہے کہ روس اس طرح کے من گھڑت دعووں کے ذریعے یوکرین، روس اور امریکہ کے درمیان ہونے والے امن مذاکرات کو نقصان پہنچانا چاہتا ہے۔ انہوں نے مزید خدشہ ظاہر کیا کہ روس ان الزامات کو جواز بنا کر یوکرینی دارالحکومت کیف میں سرکاری عمارتوں پر حملے کر سکتا ہے۔ زیلنسکی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے بھی اپیل کی ہے کہ وہ روس کی ان دھمکیوں اور الزامات پر فوری ردعمل دیں۔ فی الحال روسی حکام کی جانب سے اس بات کی تصدیق نہیں کی گئی کہ حملے کے وقت صدر پیوٹن رہائش گاہ پر موجود تھے یا نہیں۔