گھوٹکی: (کیو این این ورلڈ/نامہ نگار) گوٹھ خدا بخش لغاری میں کتا بے قابو، پولیس رشوت کے بغیر کارروائی سے انکاری، دیہاتی شدید پریشان
تفصیلات کے ضلع گھوٹکی کی تحصیل میر پور ماتھیلو کے گاؤں خدا بخش لغاری میں الیاس لغاری کے خطرناک کتے نے اہل علاقہ کی زندگی اجیرن بنا دی ہے، جبکہ جروار پولیس نے متاثرہ شہریوں کی داد رسی کرنے کے بجائے مبینہ طور پر رشوت کا مطالبہ کر دیا ہے۔ علاقہ مکینوں کے مطابق مذکورہ کتا آئے روز بچوں اور بوڑھوں کو نشانہ بنا رہا ہے جس سے گاؤں میں شدید خوف و ہراس پایا جاتا ہے، تاہم جب متاثرین جروار تھانے پہنچے تو وہاں تعینات نکے منشی کریم بخش بوزدار اور دیگر اہلکاروں نے مبینہ طور پر صورتحال کو سنجیدہ لینے کے بجائے ‘این سی’ (NC) کے اندراج اور ‘تیل پانی’ کے نام پر پیسوں کا مطالبہ کیا۔ متاثرین کا الزام ہے کہ پولیس اہلکاروں نے واضح کر دیا کہ جب تک جیب گرم نہیں کی جائے گی، کتے کے مالک کے خلاف کوئی قانونی کارروائی عمل میں نہیں لائی جائے گی۔
پولیس کی اس مجرمانہ غفلت اور رشوت نہ ملنے پر کارروائی سے انکار کا نتیجہ یہ نکلا کہ اسی خطرناک کتے نے آج دوبارہ حملہ کر کےمقامی صحافی مشتاق لغاری کے بھائی ماجد لغاری کو کاٹ کر شدید زخمی کر دیا، جس کے بعد گاؤں میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے۔ اس واقعے کے خلاف دیہاتیوں نے پولیس کے رویے پر شدید احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ شہریوں کا تحفظ یقینی بنانا پولیس کی ذمہ داری ہے نہ کہ اسے کمائی کا ذریعہ بنایا جائے۔دوسری طرف تھانہ جروار میں تعینات ایس ایچ او کے بارے میں تھانے کا عملہ اور خاص طور محرر نے یہ بتانے سے انکار کر دیا کہ ان سے کب ملاقات ہوسکتی ہے ،معدد بار تھانے کے چکر لگانے کے باوجود ایس ایچ او سے ملاقات نہ ہوسکی اور نہ کسی نے متاثرین کی بات پر کان دھرے۔
اہل علاقہ نے ایس ایس پی گھوٹکی اور دیگر اعلیٰ حکام سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ جروار تھانے میں ‘تیل پانی’ کے نام پر ہونے والی مبینہ رشوت خوری کی فوری اور شفاف انکوائری کرائی جائے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ منشی کریم بخش بوزدار اور دیگر ذمہ دار اہلکاروں کے خلاف سخت تادیبی کارروائی کی جائے اور خطرناک کتے کو فوری طور پر تلف یا گاؤں سے دور کیا جائے تاکہ مزید انسانی جانیں خطرے میں نہ پڑیں۔ متاثرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے اور کوئی بڑا جانی نقصان ہوا تو اس کی تمام تر ذمہ داری جروار پولیس پر عائد ہوگی۔