بیجنگ (کیو این این ورلڈ) بین الاقوامی سائنس دانوں نے خلا کی اتھاہ گہرائیوں میں ایک ایسے ’آوارہ‘ (Rogue) سیارے کی نشان دہی کی ہے جو کسی بھی ستارے کی کشش سے آزاد ہو کر تنہا کائنات میں تیر رہا ہے۔ عام طور پر کائنات میں دریافت ہونے والے زیادہ تر سیارے کسی نہ کسی ستارے کے گرد مدار میں چکر لگاتے ہیں، جیسا کہ ہماری زمین سورج کے گرد گردش کرتی ہے، لیکن یہ نیا دریافت شدہ سیارہ کسی بھی نظامِ شمسی کا حصہ نہیں ہے۔ فلکیات دانوں کا کہنا ہے کہ یہ اجرامِ فلکی اپنی کم روشنی اور کسی مرکزی ستارے کی عدم موجودگی کے باعث انتہائی پراسرار ہوتے ہیں، کیونکہ عام طور پر سیاروں کی شناخت ان کے ستارے کے سامنے سے گزرنے کے دوران روشنی میں ہونے والی تبدیلی سے کی جاتی ہے، مگر ان تنہا سیاروں کے معاملے میں یہ طریقہ کارگر ثابت نہیں ہوتا۔
سائنس دانوں نے اس مشکل مشاہدے کو ممکن بنانے کے لیے ‘مائیکرو لینسنگ’ (Microlensing) نامی ایک جدید ترین تکنیک کا استعمال کیا۔ اس عمل میں جب کوئی سیارہ زمین اور پس منظر میں موجود کسی دور افتادہ ستارے کے درمیان سے گزرتا ہے، تو اس کی کشش ثقل ایک طاقتور عدسے (Lens) کا کام کرتی ہے اور پیچھے موجود ستارے کی روشنی کو چند لمحوں کے لیے پھیلا کر اسے بہت زیادہ روشن کر دیتی ہے۔ اسی روشنی کے اضافے نے ماہرین کو اس ‘آوارہ’ سیارے کی موجودگی کا سراغ لگانے میں مدد دی۔ ماہرینِ فلکیات کے مطابق اس دریافت سے کائنات کی تشکیل اور ان سیاروں کے بارے میں اہم معلومات مل سکیں گی جو اپنے پیدائشی ستاروی نظام سے کسی وجہ سے بے دخل ہو کر خلا کی تاریکیوں میں بھٹکنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔