ڈی جی خان: پولیس اہلکاروں پر غیر قانونی ٹارچر سیلز اور تھرڈ ڈگری تشدد کے الزامات

ڈیرہ غازی خان: پولیس کے نجی ٹارچر سیلز، تھرڈ ڈگری تشدد اور بے گناہ شہریوں سے لوٹ مار کے انکشافات
ڈی جی خان میں پولیس پر سنگین الزامات سامنے آئے ہیں جہاں مبینہ طور پر بے گناہ اور صاحب حیثیت شہریوں کو پرانے مقدمات میں ملوث کر کے گرفتار کیا جاتا ہے، تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے اور بعد ازاں لاکھوں روپے لے کر چھوڑ دیا جاتا ہے۔

ڈیرہ غازی خان (بخت خان کھوسہ کی رپورٹ) ڈی جی خان پولیس نے وزیر اعلیٰ کے ویژن کے برعکس لوٹ مار کیلئے نیا طریقہ ایجاد کر لیا۔ بے گناہ شہریوں سے ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں روپے کی لوٹ مار کا سلسلہ شروع کر دیا گیا۔

کئی سال پرانے سنگین مقدمات جیسے ڈکیتی اور قتل میں نامعلوم ملزمان کی جگہ ایک سوچے سمجھے ایجنڈے کے تحت بے گناہ اور صاحب حیثیت شہریوں کو ملوث کیا جانے لگا۔ بے گناہ مگر صاحب حیثیت شہریوں کو گرفتار کرکے پرائیویٹ ٹارچر سیلز میں لے جا کر تھرڈ ڈگری کا نشانہ بنانا معمول بنا لیا گیا ہے۔ تشدد سے چھٹکارا حاصل کرنے کیلئے زیر حراست شخص کو مجبور کر کے پولیس اپنی مرضی کا ویڈیو بیان ریکارڈ کرانے لگی۔

پولیس مرضی کے ویڈیو بیان لینے کے بعد حبسِ بے جا میں موجود افراد کے اہل خانہ کو ویڈیو دکھا کر لاکھوں روپے کے حساب سے رشوت وصول کیے جانے کا انکشاف ہوا ہے۔ وصولی کے چند دن بعد زیر حراست افراد کو چھوڑ دیا جاتا ہے یا معمولی جرائم کے مقدمے میں چالان کر کے فرضی سنگین الزامات سے جان چھوٹ جاتی ہے۔

ذرائع کے مطابق ایسے پولیس ملازمین کو نہ صرف تھانے کے ایس ایچ او کی سرپرستی حاصل ہوتی ہے بلکہ افسران کے دفتروں میں تعینات ملازمین کی بھی مشاورت شامل ہوتی ہے اور لوٹ مار سے ملنے والی رقم میں سے حصہ بھی دیے جانے کی اطلاعات ہیں۔ ذرائع کے مطابق یہ لوٹ مار ہزاروں کے حساب سے نہیں بلکہ لاکھوں کے حساب سے کی جاتی ہے۔

رشوت اور لوٹ مار کیلئے باقاعدہ نرخ نامہ بنایا جا چکا ہے۔ پولیس تفتیش کے بہانے پہلے سے مکمل منصوبہ بندی کر کے مضبوط مالی حیثیت رکھنے والے شخص کو ہی حراست میں لے کر ان افراد پر وحشیانہ تشدد کر کے "مال بناؤ پالیسی” اپنا چکی ہے۔

پولیس مضبوط مالی حیثیت رکھنے والے شہریوں کو پکڑ کر پرانے لاپتہ قتل اور ڈکیتی جیسے سنگین مقدمات میں ملوث کرنے کا خوف دلا کر، ظالمانہ تشدد کے ذریعے غیر قانونی تحویل میں موجود افراد سے اعترافی بیانات کی ویڈیوز حاصل کرتی ہے اور بعد ازاں لاکھوں روپے کی لوٹ مار میں مصروف رہتی ہے۔

پولیس کو منہ مانگی بھاری رشوت نہ دینے کی صورت میں پرائیویٹ ٹارچر سیلز میں مغویان کو بار بار تشدد کا نشانہ بنا کر انہیں وارداتیں تسلیم کرنے پر مجبور کیا جاتا ہے۔ مغوی کو بدنام گینگز کا حصہ ظاہر کرنے کیلئے مکمل منصوبہ بندی کے تحت ویڈیو بیانات ریکارڈ کیے جاتے ہیں اور ورثاء کو دکھا کر آخرکار بھاری رشوت وصول کر لی جاتی ہے۔

افسران کے دائیں بائیں بیٹھنے والوں کو بھی اس لوٹ مار کی رقم سے نوازے جانے کے انکشافات سامنے آنے لگے ہیں، اور یہی نوازشیں تعیناتی کی وجہ بھی بن رہی ہیں۔

آر پی او ڈیرہ غازی خان سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ ایسے پولیس افسران اور ملازمین کے خلاف نوٹس لے کر انہیں ان کے کیے کی سزا دی جائے اور بے گناہ شہریوں پر ناجائز تشدد کے ذریعے لاکھوں روپے ہڑپ کرنے والے عادی عناصر کو انجام تک پہنچایا جائے، تاکہ عوام کو خوف، تشدد اور محکمانہ لوٹ مار سے نجات مل سکے اور پولیس کا عوام میں مثبت تاثر بحال ہو۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے