ڈیرہ غازیخاں (کیو این این ورلڈ/جنرل رپورٹر فہد ایوب)ڈیرہ غازی خان میں پٹرولیم مصنوعات کی فروخت میں سنگین بے ضابطگیاں اور اوور چارجنگ کا سلسلہ عروج پر پہنچ گیا ہے۔ حکومتِ پاکستان کی جانب سے آج کی پٹرول کی سرکاری قیمت 377.71 روپے فی لیٹر مقرر کیے جانے کے باوجود شہر کے بیشتر پٹرول پمپس اور گلی محلوں میں قائم غیر قانونی منی پٹرول پمپس (ڈبہ ایجنسیاں) سرِعام اضافی رقم وصول کر رہے ہیں، جس سے شہریوں کو شدید مالی مشکلات کا سامنا ہے۔
شہریوں کی جانب سے موصول ہونے والی شکایات کے مطابق شاہ سکندر روڈ پر واقع پی ایس او پٹرول پمپ سرکاری نرخ کے برعکس 379.83 روپے فی لیٹر کے حساب سے پٹرول فروخت کر رہا ہے۔ جب اس ضمن میں پمپ انتظامیہ سے سرکاری ریٹ لسٹ طلب کی جاتی ہے تو عملے کی جانب سے ٹرانسپورٹیشن اور دیگر اخراجات کا بہانہ بناتے ہوئے صارفین کے ساتھ بدتمیزی کی جاتی ہے۔ عوام نے اس امر پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ موصوف پمپ کی مشینوں کے پیمانے (نوزلز) بھی فوری طور پر چیک کیے جائیں کیونکہ مقررہ نرخ سے زائد وصولی کے ساتھ ساتھ مقدار میں بھی کمی کا شدید شبہ پایا جاتا ہے۔
یہ معاملہ کسی ایک پمپ تک محدود نہیں ہے بلکہ شہر کے تقریباً تمام چھوٹے بڑے پٹرول پمپس پر آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کے مقرر کردہ ڈیلر مارجن کے باوجود فی لیٹر ایک سے دو روپے اضافی وصول کیے جا رہے ہیں۔ دور دراز سے آنے والے مسافر اور مقامی موٹر سائیکل سوار روزانہ اس اضافی بھتے کا شکار ہو رہے ہیں۔
دوسری جانب رہائشی علاقوں، چوک چوراہوں اور مضافات میں کھلے عام کام کرنے والے غیر قانونی منی پٹرول پمپس اور ایرانی و ملاوٹ شدہ پٹرول فروخت کرنے والی ایجنسیاں سرکاری نرخ سے چار سے پانچ روپے فی لیٹر تک زیادہ وصول کر رہی ہیں۔ ان غیر قانونی پوائنٹس پر پیمانے کی جانچ کا کوئی نظام موجود نہیں ہے، جس کے باعث شہریوں کو مہنگا اور کم مقدار میں پٹرول مل رہا ہے اور گاڑیوں کے انجن بھی تباہ ہو رہے ہیں۔ اس کے علاوہ گنجان آباد علاقوں میں کھلے عام رکھے گئے پٹرول کے ڈرم کسی بھی وقت بڑے جانی و مالی حادثے کا سبب بن سکتے ہیں۔
عوامی حلقوں نے ڈپٹی کمشنر، اسسٹنٹ کمشنر، محکمہ اوزان و پیمائش اور اوگرا کے حکام سے فوری کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ شاہ سکندر روڈ سمیت شہر بھر کے پٹرول پمپس پر اچانک چھاپے مارے جائیں، اوور چارجنگ میں ملوث عناصر پر بھاری جرمانے عائد کر کے پمپس کو سیل کیا جائے، مشینوں کے پیمانے چیک کیے جائیں اور شہر بھر میں قائم تمام غیر قانونی منی پمپس و ایجنسیوں کے خلاف بھرپور آپریشن کر کے انہیں مستقل بنیادوں پر بند کیا جائے۔