ڈیرہ غازی خان (کیو این این ورلڈ/نیوزرپورٹر شاہد خان)ڈیرہ غازی خان شہر کے اندر موٹر سائیکل سواروں پر عائد ہیلمٹ پابندی ختم کرنے کا مطالبہ زور پکڑنے لگا ہے۔ شہریوں کا مؤقف ہے کہ ڈیرہ غازی خان ایک چھوٹا اور محدود رقبے پر مشتمل شہر ہے، جہاں اندرونِ شہر سفر نہایت کم وقت میں مکمل ہو جاتا ہے، اس لیے بڑے شہروں کی طرز پر سخت ہیلمٹ پابندی شہریوں کے لیے غیر ضروری مشکلات کا سبب بن رہی ہے۔

شہریوں کے مطابق ڈیرہ غازی خان شہر کا مجموعی رقبہ تقریباً دو سے اڑھائی کلومیٹر پر محیط ہے، جہاں قادریہ چوک سے گھنٹہ گھر، گھنٹہ گھر سے کلمہ چوک، کلمہ چوک سے گولائی کمیٹی، گولائی کمیٹی سے ٹریفک چوک اور ٹریفک چوک سے لاری اڈا جیسے مصروف روٹس پر سفر عموماً دو سے چار منٹ جبکہ زیادہ سے زیادہ پانچ منٹ میں طے ہو جاتا ہے۔ ایسے مختصر فاصلے اور کم دورانیے کے سفر میں ہیلمٹ پابندی کو شہری غیر عملی قرار دے رہے ہیں۔

عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ ڈیرہ غازی خان کو ملتان یا لاہور جیسے بڑے شہروں کے ساتھ موازنہ کرنا درست نہیں، کیونکہ یہاں کی جغرافیائی ساخت، ٹریفک کا دباؤ اور شہری ضروریات یکسر مختلف ہیں۔ بڑے شہروں میں طویل فاصلے، شدید ٹریفک رش اور حادثات کی شرح زیادہ ہوتی ہے، جبکہ ڈیرہ غازی خان میں اندرونِ شہر ٹریفک کی نوعیت اور فاصلوں کی صورتحال اس کے برعکس ہے۔

شہریوں نے متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ ڈیرہ غازی خان شہر کی حدود میں ہیلمٹ پابندی پر نظرثانی کی جائے اور مقامی حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے مناسب فیصلہ کیا جائے، تاکہ عوام کو روزمرہ کے مختصر سفروں میں سہولت میسر آ سکے اور غیر ضروری جرمانوں اور مشکلات سے نجات حاصل ہو۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے