ریاض/انقرہ (کیو این این ورلڈ) بین الاقوامی میڈیا ادارے "بلوم برگ” نے دعویٰ کیا ہے کہ ترکیہ نے پاکستان اور سعودی عرب کے مابین قائم ہونے والے دفاعی اتحاد میں شامل ہونے کی خواہش ظاہر کر دی ہے، جس کے بعد تینوں برادر اسلامی ممالک کے درمیان ایک بڑے دفاعی معاہدے پر دستخط جلد متوقع ہیں۔ رپورٹ کے مطابق پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب کا یہ مجوزہ اتحاد مشرقِ وسطیٰ اور اس سے آگے تک کے خطوں میں طاقت کا توازن مکمل طور پر تبدیل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس پیشرفت کو عالمی سطح پر انتہائی اہمیت کا حامل قرار دیا جا رہا ہے کیونکہ اس سے ایشیا اور مشرقِ وسطیٰ کے دفاعی منظر نامے پر گہرے اثرات مرتب ہوں گے۔
واضح رہے کہ پاکستان اور سعودی عرب نے گزشتہ برس ایک تاریخی مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط کیے تھے، جس کے تحت کسی بھی ایک ملک کے خلاف جارحیت کو دونوں ممالک کے خلاف جارحیت تصور کیا جائے گا۔ یہ شق بین الاقوامی دفاعی اتحاد "نیٹو” کے آرٹیکل 5 سے مشابہت رکھتی ہے، اور چونکہ ترکیہ پہلے ہی نیٹو کا ایک اہم رکن ہے، اس لیے اس نئے اتحاد میں اس کی شمولیت اس بلاک کو مزید مستحکم اور طاقتور بنا دے گی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس سہ فریقی اتحاد کی تشکیل سے نہ صرف دفاعی تعاون کو فروغ ملے گا بلکہ جدید عسکری ٹیکنالوجی اور سٹریٹجک شراکت داری کے ایک نئے دور کا آغاز بھی ہوگا جس سے خطے میں امن و استحکام کو یقینی بنانے میں مدد ملے گی۔