اسلام آباد (ویب ڈیسک):ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل پاکستان (ٹی آئی پی) نے نیشنل کرپشن پرسیپشن سروے 2025 جاری کیا ہے، جس کے مطابق ملک بھر میں پولیس، ٹینڈر و پروکیورمنٹ اور عدلیہ کو سب سے زیادہ کرپٹ شعبے قرار دیا گیا ہے۔ سروے میں عوام نے بتایا کہ صوبائی حکومتیں مقامی حکومتوں کے مقابلے میں زیادہ کرپٹ ہیں۔
سروے میں یہ بھی سامنے آیا کہ:
77 فیصد شرکا کرپشن روکنے کی سرکاری کوششوں سے مطمئن نہیں۔
66 فیصد افراد نے کہا کہ انہیں کسی بھی سرکاری کام کے لیے رشوت نہیں دینی پڑی۔
57 فیصد شہریوں کا کہنا تھا کہ گزشتہ 12 ماہ میں ان کی قوت خرید کم ہوئی، جبکہ 43 فیصد نے صورتحال بہتر ہونے کی تصدیق کی۔
58 فیصد شہریوں نے حکومت کے اقدامات جیسے آئی ایم ایف پروگرام اور ایف اے ٹی ایف سے انخلا کے ذریعے معیشت مستحکم کرنے کو سراہا۔
سروے میں عوامی رائے کے مطابق:
سیاسی فنڈنگ میں اصلاحات کے لیے 83 فیصد لوگ چاہتے ہیں کہ سیاسی جماعتوں کو کاروباری اداروں سے فنڈنگ ممنوع یا منظم کیا جائے۔
55 فیصد شہری چاہتے ہیں کہ سرکاری اشتہارات میں پارٹی قیادت کی تصاویر اور نام کا استعمال ممنوع ہو۔
احتساب کے اداروں پر 78 فیصد عوام چاہتے ہیں کہ نیب اور ایف آئی اے جیسے ادارے خود احتساب ہوں۔
صوبائی اور شعبہ وار تفصیلات کے مطابق:
پولیس کرپشن کا سب سے زیادہ تاثر پنجاب میں 34 فیصد۔
پروکیورمنٹ کرپشن میں بلوچستان 23 فیصد سب سے زیادہ۔
عدلیہ میں کرپشن کا سب سے زیادہ تاثر خیبر پختونخوا 18 فیصد۔
صحت کے شعبے میں کرپشن سے متاثرہ افراد کی شرح 67 فیصد، اسپتالوں میں 38 فیصد، ڈاکٹروں میں 23 فیصد اور فارماسیوٹیکل شعبے میں 21 فیصد۔
رشوت کے واقعات:
سب سے زیادہ رشوت سندھ 46 فیصد، پنجاب 39 فیصد، بلوچستان 31 فیصد، اور خیبر پختونخوا 20 فیصد۔
کرپشن رپورٹنگ میکانزم سے 70 فیصد شہری ناواقف ہیں، جبکہ جو واقف ہیں ان میں بھی صرف 43 فیصد نے کبھی رپورٹ کی۔
سروے کے مطابق عوام چاہتے ہیں کہ نام ظاہر نہ کرنے کی ضمانت (38 فیصد) اور انعامات (37 فیصد) کرپشن رپورٹنگ کی حوصلہ افزائی کریں۔
سروے کے اعداد و شمار سے واضح ہے کہ معیشت مستحکم ہونے کے باوجود پولیس، عدلیہ اور سیاسی فنڈنگ جیسے شعبوں میں کرپشن ایک سنگین مسئلہ برقرار ہے اور عوام اصلاحات اور شفافیت کے لیے پرعزم ہیں۔