لاہور (کیو این این ورلڈ):لاہور میں پتنگ بازی، موسیقی، کھابوں اور موج مستی کے ساتھ منایا جانے والا تین روزہ رنگارنگ بسنت فیسٹیول کامیابی کے ساتھ اختتام پذیر ہو گیا۔ بسنت کے تینوں دن شہر بھر میں تہوار کا سماں رہا اور ہر عمر کے شہری اس جشن میں بڑھ چڑھ کر شریک نظر آئے۔

بسنت کے موقع پر بچے، جوان، بزرگ اور خواتین سبھی پتنگیں تھامے گھروں کی چھتوں پر موجود رہے۔ پیچے لڑانے کے جوشیلے مناظر، بوکاٹا کے نعروں کی گونج، ڈھول کی تھاپ اور خوشیوں سے بھرپور ماحول نے لاہور کو ایک بار پھر زندہ دلوں کا شہر بنا دیا۔ مختلف علاقوں میں دعوتوں اور میل ملاقات کا اہتمام کیا گیا جبکہ شہریوں نے روایتی کھابوں اور موسیقی کے ساتھ بسنت کا بھرپور لطف اٹھایا۔

انتظامیہ کی جانب سے بسنت کے آخری روز شوقین پتنگ بازوں کے لیے وقت میں خصوصی توسیع کی گئی اور آخری پیچے لڑانے والوں کے لیے بسنت کا وقت صبح پانچ بجے تک بڑھا دیا گیا، جس سے شہریوں میں مزید جوش و خروش دیکھنے میں آیا۔

شہریوں کے مثبت رویے اور جوش و جذبے کو دیکھتے ہوئے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے بھی اطمینان اور خوشی کا اظہار کیا۔ انہوں نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس (سابق ٹوئٹر) پر پیغام میں کہا کہ لاہوریوں نے حکومت کے اعتماد کی لاج رکھی اور قواعد و ضوابط پر عمل کر کے یہ ثابت کیا کہ خوش و خرم مگر محفوظ بسنت ممکن ہے۔

وزیراعلیٰ پنجاب نے اپنے پیغام میں لکھا کہ پیچوں پر پیچ لڑائے گئے، ہوا کے دوش پر پتنگوں کی آنکھ مچولی جاری رہی اور یہی بسنت کی اصل خوشی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ چھتوں پر ایس او پیز کے مطابق محفوظ طریقے سے بسنت منائی گئی، جبکہ شہریوں کی سہولت اور حفاظت کے لیے لبرٹی اور اندرون شہر میں 200 کلینک آن ویل متعین کیے گئے اور 21 فیلڈ ہسپتال بھی بسنت کے دوران فعال رہے۔

مریم نواز نے عوام سے اپیل کی کہ وہ آئندہ بھی احتیاط کا دامن نہ چھوڑیں، جبکہ انہوں نے عندیہ دیا کہ سیف بسنت کے اس ماڈل کو پنجاب کے دیگر شہروں میں بھی اپنایا جائے گا۔ وزیراعلیٰ کے اس بیان کے بعد صوبے کے دیگر شہروں میں بسنت کی بحالی سے متعلق امیدیں بھی بڑھ گئی ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے