لکھنؤ (ویب ڈیسک) بھارتی ریاست اترپردیش کی بی جے پی حکومت نے مسیحی برادری کے خلاف ایک اور انتہا پسندانہ قدم اٹھاتے ہوئے اسکولوں میں کرسمس کی روایتی چھٹی منسوخ کر دی ہے، جس پر بھارت بھر میں شدید غم و غصے کی لہر دوڑ گئی ہے۔ صوبائی حکومت کی جانب سے جاری کردہ نئے احکامات کے مطابق اسکولوں کو کرسمس منانے کے بجائے سابق بھارتی وزیراعظم اٹل بہاری واجپائی کی سالگرہ کے سلسلے میں خصوصی تقریبات منعقد کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ یہ متنازع فیصلہ ایک ایسے نازک وقت میں سامنے آیا ہے جب بھارت کی مختلف ریاستوں میں کرسمس کے موقع پر مسیحی برادری کے خلاف تشدد، ہراسانی اور عبادت گاہوں کو نشانہ بنانے کے متعدد واقعات رپورٹ ہو رہے ہیں اور ان کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر تیزی سے گردش کر رہی ہیں۔
انسانی حقوق کی تنظیموں اور ماہرین کا کہنا ہے کہ اسکولوں میں کرسمس جیسی اہم مذہبی چھٹی ختم کرنا اقلیتوں کو حاصل بنیادی آئینی حقوق پر براہِ راست حملہ ہے اور اس سے مسیحی برادری میں خوف و بے چینی مزید بڑھ رہی ہے۔ بھارتی کانگریس کی ترجمان سوپریا شرینات نے اس پالیسی کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ نریندر مودی اور بی جے پی نے پورے بھارت میں نفرت کی سیاست کو ہوا دی ہے اور جان بوجھ کر مذہبی اقلیتوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے جس پر اب پوری دنیا کی نظریں مرکوز ہیں۔ سماجی حلقوں کے مطابق اترپردیش کی یوگی حکومت کا یہ اقدام بھارت کے سیکولر چہرے کو مسخ کرنے اور اقلیتوں کو دیوار سے لگانے کی منظم کوششوں کا حصہ ہے، جو ملک میں مذہبی ہم آہنگی کے لیے شدید خطرہ ثابت ہو سکتا ہے۔