بیجنگ:(کیو این این ورلڈ) چین نے وینزویلا میں امریکی فوجی کارروائی اور صدر نکولس مادورو کی گرفتاری پر سخت ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وینزویلا کے حالات میں تبدیلی کے باوجود بیجنگ کے تعاون کے فروغ کی خواہش میں کوئی تبدیلی نہیں آئے گی اور وہاں چینی مفادات کا قانون کے ذریعے ہر صورت تحفظ کیا جائے گا۔ چینی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے اپنے بیان میں امریکہ کی جانب سے طاقت کے استعمال کو لاطینی امریکہ کے امن کے لیے سنگین خطرہ قرار دیتے ہوئے زور دیا کہ تمام فریقین کو استحکام کی بحالی کے لیے کام کرنا چاہیے۔ ترجمان نے مزید کہا کہ چین بین الاقوامی تعلقات میں طاقت کے استعمال اور دوسرے ملک کی خود مختاری کی خلاف ورزی کرنے والے غنڈہ گردی کے اقدامات کی بھرپور مخالفت کرتا ہے۔

دوسری جانب وینزویلا کی صورتحال پر غور کے لیے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس آج طلب کر لیا گیا ہے، جس میں امریکی فوجی کارروائی کے بعد پیدا ہونے والی عالمی کشیدگی پر بحث متوقع ہے۔ عالمی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی حملوں کے بعد وینزویلا کی تیل کی برآمدات مکمل طور پر مفلوج ہو چکی ہیں جس سے عالمی منڈی میں سپلائی کا بحران پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔ ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے حالیہ اعلان میں واضح کیا ہے کہ اقتدار کی منتقلی تک امریکہ وینزویلا کے معاملات خود چلائے گا، جبکہ وینزویلا کے تیل کے ذخائر کو امریکی تحویل میں لے کر وہاں امریکی تیل کمپنیوں کو بھیجا جائے گا۔ عالمی سطح پر اس بیان کو ایک آزاد ملک کے قدرتی وسائل پر قبضے کی کوشش قرار دے کر شدید تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے