واشنگٹن (کیو این این ورلڈ) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر اپنے جارحانہ خارجہ بیانیے کو دہراتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا وہ واحد قوم ہے جس سے روس اور چین خوفزدہ ہیں اور جس کا وہ احترام کرتے ہیں۔ سوشل میڈیا پر جاری اپنے ایک تفصیلی بیان میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ امریکا کے بغیر دفاعی اتحاد "نیٹو” مکمل طور پر بے اثر ہے اور اگر امریکا اس کا حصہ نہ ہوتا تو روس اور چین کو اس اتحاد کا کوئی ڈر نہ ہوتا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ان کی آمد سے قبل نیٹو کے اکثر رکن ممالک اپنے دفاعی اخراجات کی ذمہ داریاں پوری نہیں کر رہے تھے، تاہم انہوں نے ان ممالک کو جی ڈی پی کے 5 فیصد تک اخراجات بڑھانے پر مجبور کیا اور اب وہ فوری ادائیگیاں کر رہے ہیں۔ ٹرمپ نے یہ شک بھی ظاہر کیا کہ ضرورت پڑنے پر نیٹو امریکا کا ساتھ دے گا یا نہیں، لیکن انہوں نے یقین دلایا کہ وہ ہمیشہ نیٹو کے لیے موجود رہیں گے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اگر وہ مداخلت نہ کرتے تو روس اب تک پورے یوکرین پر قابض ہو چکا ہوتا۔ ٹرمپ نے نوبیل امن انعام نہ ملنے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ناروے نے ان کا انتخاب نہیں کیا لیکن اس سے فرق نہیں پڑتا کیونکہ انہوں نے لاکھوں جانیں بچائی ہیں۔

دوسری جانب امریکی صدر نے وینزویلا کے حوالے سے بھی ایک اہم اقتصادی اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ وینزویلا اپنے تیل کی فروخت سے حاصل ہونے والی تمام رقم صرف امریکی مصنوعات کی خریداری پر خرچ کرے گا۔ صدر ٹرمپ کے مطابق ان مصنوعات میں امریکی زرعی اجناس، ادویات، طبی آلات، بجلی گھروں کی تنصیب اور توانائی کے شعبے کو بہتر بنانے والا سازوسامان شامل ہوگا۔ انہوں نے اسے دونوں ممالک کے عوام کے لیے ایک "دانشمندانہ انتخاب” قرار دیا ہے۔ ادھر امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے اس پالیسی کی تائید کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ وینزویلا کو اپنا تیل فروخت کرنے کی اجازت صرف اسی صورت میں دی جائے گی جب یہ امریکی قومی مفادات کے عین مطابق ہو۔ نائب صدر نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ اگر وینزویلا امریکی مفادات کو پورا کرنے میں ناکام رہا تو اسے تیل بیچنے کی ہرگز اجازت نہیں ہوگی، کیونکہ واشنگٹن اب عالمی توانائی کے وسائل پر زیادہ کنٹرول حاصل کرنے کی حکمت عملی پر عمل پیرا ہے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے