بھارت کا فالس فلیگ ڈرامہ اور چانکیہ سیاست بے نقاب
تحریر: ڈاکٹر غلام مصطفٰی بڈانی
بھارت ایک بار پھر اپنی چانکیہ سیاست کے ساتھ دنیا کے سامنے بے نقاب ہو چکا ہے۔ بغل میں چھری اور منہ میں "رام رام” کا نعرہ لگاتے ہوئے یہ ملک نہ صرف پاکستان بلکہ پوری دنیا میں امن کا سب سے بڑا دشمن بن چکا ہے۔ گزشتہ روز (30 مارچ 2026) پاکستان کے حساس اداروں نے بھارت کی ایک اور مبینہ فالس فلیگ پلاننگ کو ناکام بنا دیا۔ سکیورٹی ذرائع کے مطابق پاکستان کی انٹیلی جنس ایجنسیوں نے بھارت کی خفیہ مواصلاتی معلومات حاصل کر کے ڈی کوڈ کیں اور ایک ایسے منظم منصوبے کا انکشاف ہوا جس میں پاکستانی قیدیوں کو مقبوضہ کشمیر کے سرحدی علاقوں میں بھیج کر ایک "اسٹیجڈ انسیڈنٹ” (مصنوعی واقعہ) کروایا جانا تھا۔ پھر اسے پاکستان پر تھوپ کر سرحدی تناؤ بڑھایا جانا تھا تاکہ پاکستان کی فوج کو مشرقی سرحد پر مصروف رکھا جا سکے۔
پاکستان کے حساس اداروں نے اس انتہائی خطرناک سازش کو ناکام بنا کر عالمی برادری کے سامنے مودی سرکار کا مکروہ چہرہ واضح کر دیا ہے۔ انٹیلی جنس معلومات کے مطابق بھارت نے اپنے ہی قیدیوں کو استعمال کرتے ہوئے مقبوضہ کشمیر کے سرحدی علاقوں میں ایک بڑا ڈرامہ رچانے کا منصوبہ بنایا تھا تاکہ پاکستان پر دراندازی کا الزام لگا کر عالمی توجہ مقبوضہ کشمیر میں جاری انسانی حقوق کی پامالیوں سے ہٹائی جا سکے۔ یہ پہلی بار نہیں ہوا کہ بھارت نے ایسی بزدلانہ چال چلی ہو۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی مودی حکومت داخلی سیاست میں ناکام ہوتی ہے، وہ ایک "فالس فلیگ” آپریشن کر ڈالتی ہے۔ 2016 کا پٹھان کوٹ حملہ ہو یا 2019 کا پلوامہ ڈرامہ، ان تمام واقعات کا اسکرپٹ ایک ہی مرکز سے تیار ہوا تھا۔ پلوامہ واقعے کے بعد جب پاکستان نے مشترکہ تحقیقات کی پیشکش کی تو بھارت نے اسے مسترد کر دیا، کیونکہ وہ جانتا تھا کہ سچائی سامنے آ جائے گی کہ کس طرح الیکشن جیتنے کے لیے مودی نے اپنے ہی سپاہیوں کا خون بہایا۔
مئی 2025 کا "آپریشن سندور” بھارت کی عسکری تاریخ کا وہ سیاہ باب ہے جہاں اس نے فالس فلیگ کے ذریعے پاکستان پر جارحیت کی کوشش کی۔ اپریل 2025 کے پہلگام واقعے کو بہانہ بنا کر بھارت نے میزائل حملے کیے، لیکن پاکستان کی جانب سے "بنیان المرصوص” کے نام سے دیے گئے دندان شکن جواب نے بھارتی غرور کو خاک میں ملا دیا۔ بھارت کی یہ بوکھلاہٹ ثابت کرتی ہے کہ وہ اب میدان جنگ کے بجائے پروپیگنڈا اور جھوٹی ویڈیوز کے ذریعے اپنی ساکھ بچانے کی ناکام کوشش کر رہا ہے۔
بھارت کا دہشت گرد چہرہ دیکھنے کے لیے کسی اور گواہی کی ضرورت نہیں، حاضر سروس بھارتی نیوی افسر کلبھوشن یادیو کی گرفتاری ہی کافی ہے۔ 2016 میں بلوچستان سے گرفتار ہونے والے اس جاسوس نے اعتراف کیا کہ وہ "را” (RAW) کے اشارے پر پاکستان میں فرقہ وارانہ فسادات، دہشت گردی اور بالخصوص پاک-چین اقتصادی راہداری (CPEC) کو نقصان پہنچانے کے مشن پر تھا۔ کلبھوشن صرف ایک فرد نہیں، بلکہ بھارت کے اس نیٹ ورک کی علامت ہے جو پاکستان کو اندرونی طور پر کھوکھلا کرنا چاہتا ہے۔ اس کے علاوہ بھارت نے برسوں سے افغانستان کی سرزمین کو پاکستان کے خلاف "لانچنگ پیڈ” کے طور پر استعمال کیا ہے۔ ٹی ٹی پی اور بی ایل اے جیسے دہشت گرد گروہوں کو بھارتی ایجنسی کی جانب سے مالی معاونت اور اسلحہ فراہم کیا جا رہا ہے تاکہ پاکستان کو معاشی طور پر غیر مستحکم کیا جا سکے۔
ایک طرف بھارت ہے جو ہندوتوا کے نظریے کے تحت خطے میں آگ بھڑکا رہا ہے، اور دوسری طرف پاکستان ہے جس نے ہمیشہ عالمی امن کے لیے قربانیاں دی ہیں۔ مودی حکومت کا اسرائیل کے ساتھ گٹھ جوڑ اور بھارتی قیادت کا اسرائیلی پارلیمنٹ میں یہ کہنا کہ "ہم ایک ہی صفحے پر ہیں”، اس بات کا اعلان ہے کہ بھارت بھی اسی استعماری سوچ پر کاربند ہے جو فلسطین میں معصوم بچوں کا قتل عام کر رہی ہے۔ بھارت مقبوضہ کشمیر میں وہی اسرائیلی ماڈل نافذ کرنا چاہتا ہے جہاں طاقت کے زور پر عوامی آواز کو دبایا جا سکے۔
اس وقت ایران، اسرائیل اور امریکا کے درمیان جاری کشیدگی کے باعث خطے میں پیدا ہونے والی صورتحال اور پاکستان کی کامیاب خارجہ پالیسی کے نتیجے میں دنیا میں ملنے والی عزت بھارت کے لیے سوہانِ روح بنی ہوئی ہے۔ پاکستان کی ثالثی میں ہونے والے جنگ بندی سے متعلق مذاکرات، جنہیں امریکا اور ایران نے تسلیم کیا ہے، اس عمل میں ترکیہ، مصر اور سعودی عرب بھی شامل ہیں۔ اس کا واضح ثبوت اسلام آباد میں دو روز قبل اسحاق ڈار کی زیر صدارت ہونے والی کانفرنس ہے، جس میں اہم معاملات طے کیے گئے، جبکہ پاکستان کو چین کا اعتماد بھی حاصل ہے,یہ تمام پیش رفت بھارت کے لیے ناقابلِ برداشت بنتی جا رہی ہے۔
پاکستانی اور بھارتی اقلیت خاص طور مسلمان جو صرف اپنے گھروں،دکانوں، کھیتوں اور بچوں کی فکر میں رہتے ہیں، بار بار بھارتی سازشوں کا شکار ہو رہے ہیں۔ یہ دیکھ کر دل میں ایک گہرا درد اٹھتا ہے کہ کیا بھارت کے لیے انسانی جانوں کی کوئی قیمت نہیں؟ کیا وہ قیدیوں کو بھی اپنے سیاسی کھیل کا مہرہ بنا کر خوشی محسوس کرتا ہے؟ بھارت کی خارجہ و دفاعی پالیسی صدیوں پرانی "آریا ورت” کی اسی چانکیہ فکر پر استوار ہے جس کی بنیاد ہی دھوکہ دہی، مکاری اور پڑوسیوں کو کمزور کرنے پر رکھی گئی ہے۔ آج کی جدید دنیا میں جہاں ریاستیں معاشی تعاون اور انسانی حقوق کی بات کرتی ہیں، وہاں بھارت خطے کے امن کو داؤ پر لگا چکا ہے۔
آج بھارت دنیا کے سامنے ایک جمہوری ملک کا لبادہ اوڑھ کر بیٹھا ہے، لیکن اس کے اندر کا بھیڑیا اب چھپائے نہیں چھپتا۔ آر ایس ایس کی بنیاد پر قائم مودی سرکار نہ صرف پاکستان بلکہ خود بھارت کے اندر بسنے والی اقلیتوں کے لیے بھی ایک عذاب بن چکی ہے۔ عالمی برادری کو اب خاموشی توڑنی ہوگی۔ بھارت کو یہ سمجھ لینا چاہیے کہ پاکستان ایک ایٹمی قوت ہے اور اس کی عوام اپنی افواج کے ساتھ سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی طرح کھڑی ہے۔ امن ہی وہ واحد راستہ ہے جس سے خطہ ترقی کر سکتا ہے، لیکن اگر بھارت نے چانکیہ سیاست کا راستہ نہ چھوڑا تو تاریخ اسے کبھی معاف نہیں کرے گی۔ بھارت کا مکروہ چہرہ اب پوری دنیا کے سامنے عیاں ہو چکا ہے اور اب وقت آگیا ہے کہ اسے عالمی سطح پر کٹہرے میں کھڑا کیا جائے۔
