ٹنگلہ، آسام (ویب ڈیسک) بھارتی ریاست آسام کے قبائلی اضلاع کاربی انگ لانگ اور کھیرونی میں مودی حکومت کی مبینہ آبادیاتی تبدیلیوں اور زمینوں پر قبضے کی پالیسی کے خلاف احتجاج نے خونریز رخ اختیار کر لیا ہے، جہاں پولیس کی فائرنگ اور پرتشدد جھڑپوں کے نتیجے میں 2 شہری ہلاک جبکہ 50 سے زائد افراد زخمی ہو گئے ہیں۔ بھارتی اخبار "دی ہندو” اور مقامی میڈیا رپورٹس کے مطابق حالات اس وقت کشیدہ ہوئے جب قبائلی عوام اپنی آبائی زمینوں پر سرکاری سرپرستی میں ہونے والی تجاوزات کے خلاف سڑکوں پر نکل آئے۔ مظاہرین کا الزام ہے کہ مودی سرکار مقبوضہ کشمیر کی طرز پر آسام میں بھی آبادیاتی توازن بگاڑنے کی کوشش کر رہی ہے اور قبائل کے لیے مخصوص سرکاری چراگاہوں (VGR اور PGR) پر غیر مقامی اور غیر قبائلی آبادکاروں کو زبردستی بسایا جا رہا ہے، جس سے مقامی آبادی کی معاشی، ثقافتی اور جغرافیائی شناخت کو شدید خطرات لاحق ہو گئے ہیں۔
کاربی انگ لانگ میں ہونے والے ان مظاہروں کے دوران مشتعل مظاہرین نے متعدد دکانوں کو نذرِ آتش کر دیا اور بی جے پی کے مقامی رہنما کے گھر کو بھی آگ لگا دی، جس کے جواب میں پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کی شیلنگ، وحشیانہ لاٹھی چارج اور براہِ راست فائرنگ کی جس سے ہلاکتیں وقوع پذیر ہوئیں۔ صورتحال کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے ضلعی انتظامیہ نے علاقے میں غیر معینہ مدت کے لیے کرفیو نافذ کر دیا ہے جبکہ انٹرنیٹ اور موبائل سروسز بھی معطل کر دی گئی ہیں تاکہ احتجاج کے پھیلاؤ کو روکا جا سکے۔ قبائلی نمائندوں کا مطالبہ ہے کہ ان کی مخصوص زرعی اور کاروباری زمینوں سے غیر مقامی افراد کو فوری بے دخل کیا جائے، کیونکہ ان کے بقول سرکاری زمینوں پر منظم قبضے مقامی قبائل کو اپنے ہی وطن میں اقلیت میں بدلنے کی گہری سازش کا حصہ ہیں۔