دوشنبے(ویب ڈیسک)تاجکستان اور افغانستان کی سرحد پر دہشت گردوں کی دراندازی کی کوشش کے دوران ہونے والی شدید جھڑپ میں تاجکستان کے دو سرحدی محافظ جاں بحق اور تین حملہ آور ہلاک ہو گئے ہیں۔ برطانوی میڈیا اور تاجک سرکاری خبر رساں ایجنسی ‘خاور’ کے مطابق یہ واقعہ تاجکستان کے صوبہ ختلان کے ضلع شمس الدین شاہین اور افغانستان کے صوبہ بدخشاں کے درمیانی سرحدی علاقے میں پیش آیا، جہاں مسلح دہشت گردوں نے منگل اور بدھ کی درمیانی شب سرحد عبور کر کے ایک فوجی چوکی کو نشانہ بنانے کی کوشش کی۔ تاجک سکیورٹی فورسز نے دہشت گردوں کے ٹھکانے کا سراغ لگا کر آپریشن کیا تو حملہ آوروں نے ہتھیار ڈالنے کے بجائے فائرنگ کر دی، جس کے نتیجے میں 28 سالہ عصمت اللہ قربانوف اور 33 سالہ لیفٹیننٹ کرنل زریبون نوروز بیکوف جاں بحق ہو گئے، جبکہ جوابی کارروائی میں تینوں دہشت گرد مارے گئے۔
تاجکستان کی نیشنل سکیورٹی کمیٹی نے اس واقعے پر سخت ردعمل دیتے ہوئے افغانستان میں برسرِاقتدار طالبان انتظامیہ کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ گزشتہ ایک ماہ کے دوران افغانستان سے دراندازی اور دہشت گردی کا یہ تیسرا بڑا واقعہ ہے، جو ثابت کرتا ہے کہ طالبان حکومت دہشت گرد تنظیموں کو لگام ڈالنے کے حوالے سے اپنے بین الاقوامی وعدوں کی پاسداری میں بری طرح ناکام اور غیر ذمہ دار رہی ہے۔ تاجکستان نے مطالبہ کیا ہے کہ طالبان قیادت اس واقعے پر تاجک عوام سے باقاعدہ معافی مانگے اور اپنی حدود میں سکیورٹی یقینی بنانے کے لیے ٹھوس اقدامات کرے۔ سکیورٹی فورسز نے ہلاک دہشت گردوں کے قبضے سے بڑی مقدار میں اسلحہ اور گولہ بارود برآمد کر لیا ہے، تاہم ان کی شناخت اور تنظیم کا نام تاحال خفیہ رکھا گیا ہے۔
واضح رہے کہ تاجکستان اور افغانستان کی 1344 کلومیٹر طویل دشوار گزار سرحد پر حالیہ دنوں میں کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے، جس کے پیشِ نظر تاجک صدر امام علی رحمان نے اسی روز سرحد پر چار نئی فوجی چوکیوں کا افتتاح بھی کیا ہے۔ یہ اقدامات خاص طور پر چین کی جانب سے اپنے شہریوں پر ہونے والے حملوں کے بعد سکیورٹی کے مطالبے پر کیے گئے ہیں۔ تاجک حکام نے واضح کیا ہے کہ وہ اپنی سرحدوں کے دفاع کی مکمل صلاحیت رکھتے ہیں اور کسی بھی بیرونی جارحیت یا اسمگلنگ کی کوشش کا منہ توڑ جواب دیا جائے گا۔ فی الوقت سرحد پر حالات پرسکون بتائے جا رہے ہیں تاہم تاجک فورسز نے ہائی الرٹ رہتے ہوئے واقعے کی وسیع تر تحقیقات شروع کر دی ہیں۔