کراچی (کیو این این ورلڈ) امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمان نے پیپلز پارٹی کی قیادت پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ بلاول بھٹو زرداری کا مشن کراچی کو ترقی دینے کے بجائے اسے ‘موہنجودڑو’ میں تبدیل کرنا ہے، جبکہ سندھ کی موجودہ حالت دیکھ کر دل خون کے آنسو روتا ہے۔ کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایم کیو ایم اور پیپلز پارٹی صرف عوامی توجہ ہٹانے کے لیے مصنوعی لڑائی لڑتی ہیں، حالانکہ دونوں جماعتیں ہر مفاداتی کام میں ایک دوسرے کی حصے دار ہیں۔ حافظ نعیم نے دعویٰ کیا کہ پیپلز پارٹی کو فارم 47 کے ذریعے کراچی پر مسلط کیا گیا ہے، کیونکہ یہ ایک شہر دشمن جماعت ہے جسے عوام مسترد کر چکے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ جب بھی آئین میں عوام دشمن ترمیم کرنی ہو تو یہ جماعتیں متحد ہو جاتی ہیں، لیکن جب شہر کی خدمت کا وقت آتا ہے تو ایک دوسرے پر الزامات لگا کر بری الذمہ ہونے کی کوشش کی جاتی ہے۔

حافظ نعیم الرحمان نے کراچی کے انفراسٹرکچر کی تباہی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سندھ حکومت شہر کے 3 ہزار 400 ارب روپے ہضم کر چکی ہے، جس کی وجہ سے ‘کے فور’ جیسا اہم منصوبہ 21 سال گزرنے کے باوجود مکمل نہیں ہو سکا۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ کراچی کے شہری کب تک اپنے بچوں کو خستہ حال سڑکوں، کھلے گٹروں اور بے لگام ڈمپروں کے رحم و کرم پر چھوڑیں گے، اس مافیا سے نجات اب ناگزیر ہو چکی ہے۔ امیر جماعت اسلامی نے مطالبہ کیا کہ انتخابات متناسب نمائندگی کی بنیاد پر کرائے جائیں تاکہ عوامی مینڈیٹ کے مطابق حقیقی قیادت سامنے آ سکے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ پنجاب میں غیر جمہوری ہتھکنڈوں کے خلاف 15 جنوری سے بھرپور مہم کا آغاز کیا جائے گا، جبکہ کراچی کے حقوق کے لیے ان کا پرامن جمہوری احتجاج اور جدوجہد ہر سطح پر جاری رہے گی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے