بنگلا دیش میں نوجوان انقلابی رہنما شریف عثمان ہادی کے دورانِ علاج انتقال کے بعد ملک بھر میں بھارت مخالف شدید احتجاج اور پُرتشدد مظاہروں کا آغاز ہو گیا۔ دارالحکومت ڈھاکا سمیت مختلف شہروں میں مشتعل مظاہرین سڑکوں پر نکل آئے، عوامی لیگ اور متعدد میڈیا اداروں کے دفاتر کو آگ لگا دی، توڑ پھوڑ کی اور اہم شاہراہیں بند کر دیں۔ کئی مقامات پر سکیورٹی فورسز اور مظاہرین کے درمیان جھڑپوں کی اطلاعات بھی موصول ہو رہی ہیں۔

مظاہرین نے عثمان ہادی کے حق میں نعرے لگائے اور مطالبہ کیا کہ ان پر حملے کے ذمہ داروں کو فوری طور پر انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے۔ راجشاہی میں مظاہرین کی جانب سے شیخ مجیب الرحمان کی رہائش گاہ کو نذرِ آتش کرنے کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں، جس کے پیش نظر حکام نے مختلف علاقوں میں سکیورٹی سخت کر دی ہے۔

شریف عثمان ہادی جولائی میں حسینہ واجد حکومت کے خلاف ہونے والی طلبہ تحریک کے نمایاں رہنما اور طلبہ قائدین کے قائم کردہ سیاسی پلیٹ فارم انقلاب منچہ کے ترجمان تھے۔ انہیں گزشتہ جمعے کو ڈھاکا میں نامعلوم افراد نے فائرنگ کر کے شدید زخمی کر دیا تھا۔ ابتدا میں ڈھاکا کے اسپتال میں علاج کے بعد انہیں 15 دسمبر کو سنگاپور منتقل کیا گیا، جہاں وہ آج دورانِ علاج جانبر نہ ہو سکے۔

سنگاپور کی وزارتِ خارجہ کے مطابق ڈاکٹروں کی بھرپور کوششوں کے باوجود ہادی زخموں کی تاب نہ لا سکے۔ بنگلا دیشی میڈیا کے مطابق 32 سالہ ہادی کو آئندہ فروری میں ہونے والے قومی انتخابات میں ڈھاکا-8 کے ممکنہ امیدوار کے طور پر بھی دیکھا جا رہا تھا۔

تفتیشی حکام کا کہنا ہے کہ حملے میں ملوث مرکزی ملزم کی شناخت فیصل کریم مسعود اور موٹرسائیکل سوار ساتھی کی شناخت عالمگیر شیخ کے طور پر ہوئی ہے۔ حکام کے مطابق دونوں مشتبہ افراد بھارت کی سرحد سے غیرقانونی طور پر بنگلا دیش میں داخل ہوئے اور واردات کے بعد بھارت فرار ہو گئے۔ واقعے میں اب تک 14 افراد کو گرفتار کر کے تفتیش کی جا رہی ہے، جن میں فیصل کے والدین، اہلیہ اور بھائی بھی شامل ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے