کوئٹہ (کیو این این ورلڈ): نئے سال 2026 کے استقبال سے چند گھنٹے قبل بلوچستان کے شمالی اور مغربی اضلاع قدرت کے حسین نظاروں سے مزین ہو گئے ہیں، جہاں زیارت، توبہ اچکزئی، کان مہترزئی، چمن اور قلات کے پہاڑی علاقوں میں ہونے والی شدید برفباری نے وادیوں کو سفید چادر اوڑھا دی ہے۔ کوئٹہ سمیت پشین، مستونگ اور ژوب میں وقفے وقفے سے بارش کا سلسلہ بھی جاری ہے، جس کے باعث سردی کی شدت میں نمایاں اضافہ ہو گیا ہے اور درجہ حرارت منفی 2 ڈگری تک گر گیا ہے۔ محکمہ موسمیات کے مطابق مغربی ہواؤں کا یہ طاقتور سلسلہ 31 دسمبر کی رات تک جاری رہنے کا امکان ہے، جس سے پہاڑی علاقوں میں مزید برفباری اور میدانی علاقوں میں بارش متوقع ہے۔ زیارت کی مشہور جونیپر وادیاں برف سے ڈھکنے کے بعد سیاحوں کی بڑی تعداد وہاں پہنچ چکی ہے جو ان دلکش مناظر سے لطف اندوز ہو رہی ہے، جبکہ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ان تصاویر کو نئے سال کے لیے قدرت کا حسین تحفہ قرار دیا جا رہا ہے۔
برفباری اور بارش جہاں خوشگواریت لائی ہے، وہیں انتظامی مشکلات بھی پیدا ہوئی ہیں کیونکہ کوئٹہ سے زیارت اور چمن جانے والی سڑکوں پر پھسلن کے باعث ٹریفک کی روانی متاثر ہوئی ہے اور کوئٹہ شہر میں متعدد فیڈرز ٹرپ ہونے سے بجلی کی فراہمی میں تعطل پیدا ہوا ہے۔ پی ڈی ایم اے نے ان حالات کے پیشِ نظر شہریوں کو غیر ضروری سفر سے گریز اور احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت جاری کی ہے۔ دوسری جانب ماہرینِ موسمیات کا کہنا ہے کہ طویل خشک سالی کے بعد ہونے والا یہ سلسلہ زراعت، قدرتی چشموں اور زیرِ زمین پانی کی سطح میں بہتری کے لیے انتہائی مفید ثابت ہوگا۔ سردی کی لہر کے باوجود بلوچستان کا یہ برفانی روپ سیاحوں کے لیے کشش کا باعث بنا ہوا ہے اور نئے سال کا آغاز قدرت کی اس خوبصورتی کے ساتھ یادگار بن گیا ہے۔