بیکری مافیا، مقدس گائے کیوں؟
تحریر: ڈاکٹر غلام مصطفےٰ بڈانی
پاکستان میں مہنگائی اب کسی عارضی مسئلے کا نام نہیں رہی بلکہ یہ ایک مستقل عذاب کی صورت اختیار کر چکی ہے۔ آٹا، روٹی، چاول، دالیں اور دیگر اشیائے ضروریہ عام آدمی کی پہنچ سے مسلسل دور ہوتی جا رہی ہیں۔ غریب اور متوسط طبقہ پہلے ہی بجلی، گیس اور پٹرول کے بلوں تلے دبا ہوا ہے، ایسے میں روزمرہ خوراک کی قیمتوں میں اضافہ اس کی کمر توڑ دینے کے مترادف ہے۔ میڈیا پر آئے دن انتظامیہ کے کریک ڈاؤن کی خبریں چلتی رہتی ہیں، کبھی قصابوں کے خلاف کارروائی، کبھی دودھ میں ملاوٹ پر چھاپے اور کبھی کم ناپ تول پر جرمانے۔ یہ سب دیکھ کر بظاہر لگتا ہے کہ ریاست عوام کو ریلیف دینے میں سنجیدہ ہے، مگر ایک شعبہ ایسا ہے جو حیرت انگیز طور پر ہر طرح کی گرفت سے آزاد نظر آتا ہے، اور وہ ہے بیکریاں۔

یہ سوال اب شدت سے اٹھ رہا ہے کہ آخر بیکریاں ایسی کون سی مقدس گائے ہیں جنہیں کوئی ہاتھ لگانے کو تیار نہیں؟ کیا کبھی آپ نے کسی بڑی خبر میں یہ سنا کہ بیکریوں میں ایکسپائری اشیاء کے استعمال پر بڑے پیمانے پر کارروائی ہوئی ہو؟ یا کم وزن بریڈ، کیک اور بنز فروخت کرنے پر کوئی سخت سزا دی گئی ہو؟ حقیقت یہ ہے کہ بیکریوں کی مصنوعات روزمرہ زندگی کا حصہ بن چکی ہیں، مگر ان کے معیار، وزن اور قیمت پر نہ ہونے کے برابر نگرانی ایک کھلا سوالیہ نشان ہے۔

جنوری 2026 کے آغاز کے ساتھ ہی آٹے کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ دیکھنے میں آیا۔ مختلف شہروں میں 20 کلو آٹے کا تھیلا 2300 سے 3000 روپے تک جا پہنچا، جس کا براہ راست اثر روٹی اور نان کی قیمتوں پر پڑا۔ چپاتی 14 سے 15 روپے اور نان 25 سے 30 روپے تک فروخت ہونے لگا۔ ایک عام خاندان کے لیے یہ اضافہ معمولی نہیں بلکہ روزانہ کے بجٹ پر کاری ضرب ہے۔ تندوروں پر تو انتظامیہ کی نظر رہتی ہے، چھاپے پڑتے ہیں، جرمانے ہوتے ہیں، مگر بیکریاں، جو آٹے کی بڑی صارف ہیں، ان کی قیمتوں کا تعین کون کرتا ہے؟ بریڈ، کیک، بسکٹ اور دیگر اشیاء کی قیمتیں من مانے انداز میں بڑھائی جاتی ہیں، وزن کم ہوتا ہے، معیار گر جاتا ہے، مگر کوئی پوچھنے والا نہیں۔

دلچسپ امر یہ ہے کہ فوڈ اتھارٹیز اور دیگر ادارے اپنی کارکردگی کے اعداد و شمار بڑے فخر سے پیش کرتے ہیں۔ کہیں ایکسپائری اشیاء پر دکانیں سیل کی جاتی ہیں، کہیں ذخیرہ اندوزوں سے ہزاروں من گندم برآمد کی جاتی ہے، کہیں جعلی شہد اور ناقص خوراک ضبط کی جاتی ہے۔ ان سب کارروائیوں کے باوجود بیکریوں کا ذکر شاذ و نادر ہی سننے کو ملتا ہے۔ اگر دیگر فوڈ سیکٹرز میں ملاوٹ، اوور چارجنگ اور غیر معیاری اشیاء جرم ہیں تو یہی اصول بیکریوں پر کیوں لاگو نہیں ہوتے؟

یہ صورتحال کئی شکوک کو جنم دیتی ہے۔ کیا بیکری انڈسٹری کی لابی اتنی مضبوط ہے کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے بھی اس کے سامنے بے بس نظر آتے ہیں؟ یا پھر یہ وہ شعبہ ہے جہاں سے بااثر حلقوں کو کسی نہ کسی شکل میں فائدہ پہنچتا ہے، اس لیے آنکھیں بند کر لی جاتی ہیں؟ یہ سوالات اس لیے بھی اہم ہیں کہ بیکری کی اشیاء اب صرف لگژری نہیں رہیں بلکہ بچوں سے لے کر بزرگوں تک، سب کی روزمرہ خوراک کا حصہ بن چکی ہیں۔ اگر یہی اشیاء ایکسپائری، کم وزن یا غیر معیاری ہوں تو اس کے اثرات براہ راست عوام کی صحت پر پڑتے ہیں۔

حقیقت یہ ہے کہ بیکری مافیا کے خلاف سنجیدہ اور مستقل کارروائی وقت کی اہم ضرورت بن چکی ہے۔ محض علامتی چھاپے یا وقتی سیلنگ سے مسئلہ حل نہیں ہوگا۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ بیکریوں کا باقاعدہ آڈٹ کیا جائے، ان کے خام مال، ایکسپائری ڈیٹس، وزن، قیمتوں اور حفظانِ صحت کے معیار کی سخت نگرانی ہو۔ جس طرح قصاب، دودھ فروش اور تندور والے قانون کے دائرے میں ہیں، اسی طرح بیکریوں کو بھی جوابدہ بنایا جائے۔

عوام یہ سوال کرنے میں حق بجانب ہیں کہ اگر قانون سب کے لیے برابر ہے تو بیکریاں اس سے مستثنیٰ کیوں؟ اگر واقعی ریاست مہنگائی اور لوٹ مار کے خلاف سنجیدہ ہے تو اسے اس نام نہاد مقدس گائے کو بھی لگام دینا ہوگی۔ ورنہ یہ تاثر مزید گہرا ہوگا کہ کچھ مافیا قانون سے بالاتر ہیں۔ اب وقت آ گیا ہے کہ اس سوال کا جواب صرف لفظوں میں نہیں بلکہ عملی اور ٹھوس کارروائی سے دیا جائے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے