اسلام آباد (کیو این این ورلڈ)باجوڑ حملہ: طالبان بیان حقائق چھپانے کی ناکام کوشش قرار
وزارت اطلاعات نے کہا ہے کہ افغان طالبان حکومت کے ڈپٹی ترجمان کا حالیہ بیان اپنی ہولناک کارروائیوں کو چھپانے کی ناکام کوشش ہے اور حقیقت کو مسخ کر کے دنیا کو گمراہ کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
وزارت اطلاعات کے مطابق افغان طالبان حکومت نے دانستہ طور پر ضلع باجوڑ میں شہری آبادی کو نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں 4 بے گناہ شہری شہید جبکہ ایک پانچ سالہ بچہ شدید زخمی ہو گیا۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کی مسلح افواج کی کارروائیاں افغانستان میں صرف دہشت گردوں کے ٹھکانوں تک محدود ہیں اور ان کا مقصد کسی صورت شہری آبادی کو نشانہ بنانا نہیں۔ وزارت اطلاعات کے مطابق پاکستان افغان طالبان حکومت کی جانب سے مصنوعی ذرائع سے تیار کردہ تصاویر اور ویڈیوز پر انحصار نہیں کرتا جبکہ طالبان حکومت کے سرکاری ذرائع سے جاری کیا جانے والا جھوٹ انہیں اندرون ملک اور عالمی سطح پر بے نقاب کر رہا ہے۔
یاد رہے کہ ضلع باجوڑ میں سرحد پار سے افغان طالبان کی جانب سے کی گئی فائرنگ کے نتیجے میں چار شہری شہید ہو گئے تھے۔ وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ کے مطابق افغان طالبان نے دوپہر تقریباً ساڑھے تین بجے سرحد پار سے توپ خانے اور مارٹر گولوں کے ذریعے باجوڑ کے علاقے سالارزئی اور تبستہ لیٹئی میں شہری آبادی کو نشانہ بنایا۔
انہوں نے بتایا کہ مارٹر گولہ ایک گھر پر گرنے سے چار معصوم شہری ساجد، ایاز، ریاض اور معاذ شہید ہو گئے جبکہ ایک پانچ سالہ بچہ شدید زخمی ہو گیا۔ اس واقعے پر مقامی افراد نے شدید غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے افغان طالبان کے اس اقدام کی سخت مذمت کی۔
عطا تارڑ نے کہا کہ افغان طالبان معصوم شہریوں کو جان بوجھ کر نشانہ بنا رہے ہیں اور وہ فتنہ الخوارج جیسی دہشت گرد تنظیموں کے ساتھ مل کر کارروائیاں کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس نوعیت کے حملے بین الاقوامی قوانین اور بنیادی انسانی اقدار کی سنگین خلاف ورزی ہیں۔
وفاقی وزیر اطلاعات کے مطابق آپریشن غضب للحق کی مؤثر کارروائیوں کے باعث افغان طالبان اور دہشت گرد عناصر شدید دباؤ اور مایوسی کا شکار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس بزدلانہ اور گھناؤنے حملے کے ذمہ دار افغان طالبان کی چوکیوں اور دیگر انفرااسٹرکچر کو مناسب اور بھرپور جواب دیا جا رہا ہے۔