کوئٹہ (کیو این این ورلڈ) وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے سنسنی خیز انکشاف کیا ہے کہ صوبے کے متعدد غیر آباد علاقوں میں لگے انٹرنیٹ ٹاورز ریاست کے خلاف بطور ہتھیار استعمال کیے گئے ہیں۔ کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے سوال اٹھایا کہ بلوچستان کے ان دور افتادہ مقامات پر، جہاں آبادی نام کی کوئی چیز نہیں، انٹرنیٹ کے کھمبے اور ٹاورز کس کے فنڈز سے اور کیوں لگائے گئے؟ انہوں نے کہا کہ جب وہ ہیلی کاپٹر پر سفر کرتے ہیں تو سانگان جیسے بیابان علاقوں میں بھی 4 جی سروسز چل رہی ہوتی ہیں، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ ان سہولیات کے پیچھے کوئی خاص "دماغ” کام کر رہا ہے اور یہ تمام ٹولز منظم طریقے سے ریاست مخالف سرگرمیوں کے لیے فراہم کیے گئے۔

وزیراعلیٰ بلوچستان کا کہنا تھا کہ اب صوبائی حکومت تین ارب روپے کی لاگت سے تمام اسکولوں، کالجوں، یونیورسٹیوں اور ہسپتالوں میں اپنی فائبر آپٹک کیبل بچھا رہی ہے تاکہ انٹرنیٹ کی فراہمی کو محفوظ بنایا جا سکے اور یہ مکمل ریکارڈ موجود ہو کہ اس ٹیکنالوجی کا استعمال کہاں اور کس مقصد کے لیے ہو رہا ہے۔ سرفراز بگٹی نے واضح کیا کہ ریاست کے خلاف استعمال ہونے والے ان تمام ذرائع کا راستہ روکا جائے گا اور صوبے میں ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کو حکومتی نگرانی میں لا کر اس کے منفی استعمال کا خاتمہ کیا جائے گا۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ انٹرنیٹ کی سہولت صرف عوام کی فلاح اور تعلیم کے لیے ہونی چاہیے نہ کہ دہشت گردی یا شرپسندی کے فروغ کے لیے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے