سیالکوٹ ( کیو این این ورلڈ/ڈسٹرکٹ رپورٹرحسنین راجہ) حکومتِ پاکستان کی جانب سے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں یکمشت 55 روپے فی لیٹر کے ظالمانہ اضافے نے پہلے سے پسے ہوئے طبقے کی چیخیں نکلوا دی ہیں۔ پیٹرول کی قیمت 321 روپے اور ڈیزل کی قیمت 335 روپے فی لیٹر سے تجاوز کر جانے کے بعد عوام میں شدید غم و غصہ پایا جا رہا ہے، شہریوں کا کہنا ہے کہ اس فیصلے سے روزمرہ زندگی کی ہر چیز پہنچ سے دور ہو جائے گی۔
پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اس بھاری اضافے کے ساتھ ہی گڈز ٹرانسپورٹ نے کرایوں میں فوری 20 فیصد اضافہ کردیا ہے، جس کا براہِ راست اثر اشیائے خورونوش، سبزیوں اور دیگر ضروریاتِ زندگی پر پڑے گا۔ غریب اور متوسط طبقے کے لیے اب موٹر سائیکل چلانا بھی دشوار ہو گیا ہے، جبکہ کسانوں کے لیے ٹیوب ویل اور زرعی مشینری کا استعمال مہنگا ہونے سے فصلوں کی لاگت میں بھی اضافہ ہو جائے گا۔
عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ حکومت عالمی منڈی اور مشرقِ وسطیٰ کی کشیدگی کا بہانہ بنا کر سارا بوجھ غریب عوام کے کندھوں پر ڈال رہی ہے۔ پیٹرول پمپس پر لگی لمبی قطاروں میں موجود شہریوں نے دہائی دی ہے کہ تنخواہیں وہی ہیں جبکہ اخراجات دوگنا ہو چکے ہیں، ایسے میں دو وقت کی روٹی پوری کرنا بھی ایک خواب بن کر رہ گیا ہے۔
معاشی ماہرین نے بھی خبردار کیا ہے کہ پیٹرول کی قیمت میں اس قدر بڑے اضافے سے مہنگائی کا نیا طوفان آئے گا جو عام آدمی کی قوتِ خرید کو مکمل طور پر ختم کر سکتا ہے۔ شہریوں نے حکومت سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ پیٹرولیم لیوی میں کمی کر کے عوام کو فوری ریلیف فراہم کیا جائے، ورنہ فاقہ کشی کی نوبت آ جائے گی۔