کولمبو (کیو این این ورلڈ) ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے سب سے بڑے مقابلے میں بھارتی کرکٹ ٹیم کے کپتان کی جانب سے پاکستانی کپتان کے ساتھ ہاتھ نہ ملانے کی اصل وجہ سامنے آگئی ہے، جس کے پیچھے جنگی محاذ پر ناکامی اور ماضی میں اپنے 6 جنگی طیارے گرنے کا تاحال برقرار رہنے والا غصہ کارفرما ہے۔ ذرائع کے مطابق بھارتی کرکٹ بورڈ اور ٹیم انتظامیہ نے کھیل کی عالمی روایات کو پسِ پشت ڈالتے ہوئے دانستہ طور پر ہینڈ شیک نہ کرنے کا فیصلہ کیا، جو کہ اس بات کا ثبوت ہے کہ بھارت کھیلوں کے میدان کو بھی اپنی سیاسی و جنگی خفت مٹانے کے لیے استعمال کر رہا ہے۔ میچ کے آغاز پر ٹاس کے موقع پر دونوں کپتانوں کے درمیان روایتی مصافحہ نہ ہونے سے اسٹیڈیم میں موجود شائقین اور مبصرین دنگ رہ گئے، جبکہ اس عمل کو اسپورٹس مین اسپرٹ کے مکمل منافی قرار دیا جا رہا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ بھارت تاحال فروری 2019 میں اپنے لڑاکا طیاروں کی تباہی اور بین الاقوامی سطح پر ہونے والی سبکی کو بھلا نہیں پایا ہے، اور یہی وجہ ہے کہ کرکٹ جیسے جنٹلمین گیم میں بھی بھارتی کھلاڑیوں کے رویے سے اس شکست کا زخم واضح طور پر نمایاں ہے۔ یاد رہے کہ میچ سے قبل بھارتی کپتان نے پریس کانفرنس میں بھی ہینڈ شیک کے سوال پر سسپنس برقرار رکھا تھا، جس کا مقصد اس غیر اخلاقی فیصلے کو عملی جامہ پہنانا تھا۔ اس ہٹ دھرمی پر خود بھارت کے اندر سے بھی آوازیں اٹھنے لگی ہیں اور سابق کرکٹر سنجے منجریکر نے اس فیصلے کو "احمقانہ” قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایسی حرکات سے بھارت کی عالمی ساکھ متاثر ہو رہی ہے اور یہ کسی طور بھی ایک وقار والے ملک کے شایانِ شان نہیں ہے۔

دوسری جانب، پاکستانی ٹیم اور شائقین نے اس صورتحال کو بھارتی اعصاب کی کمزوری قرار دیا ہے۔ کرکٹ ماہرین کا ماننا ہے کہ جب کوئی ٹیم میدان میں مقابلہ کرنے کی صلاحیت کھو دیتی ہے تو وہ ایسی اوچھی حرکات پر اتر آتی ہے۔ ٹاس جیت کر پہلے فیلڈنگ کرنے والی پاکستانی ٹیم کے کھلاڑیوں نے اس تناؤ کے باوجود انتہائی تحمل اور پیشہ ورانہ رویے کا مظاہرہ کیا ہے اور ان کی تمام تر توجہ اب میدان میں اپنی کارکردگی کے ذریعے بھارت کو ایک بار پھر شکست سے دوچار کرنے پر مرکوز ہے۔ شائقینِ کرکٹ کا کہنا ہے کہ ہاتھ ملانے سے انکار کر کے بھارت نے خود اپنی چھوٹی سوچ کا ثبوت دیا ہے، جبکہ پاکستانی شاہینوں کا عزم ہے کہ وہ اپنی بولنگ اور بیٹنگ سے اس ہٹ دھرمی کا بھرپور جواب دیں گے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے