لاہور(ویب ڈیسک) امریکا میں قائم تنظیم "سکھ آف امریکا” کے سات رکنی وفد نے بانی چیئرمین چند ہوک کی سربراہی میں وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف سے ملاقات کی، جس میں وزیراعلیٰ نے وفد کا استقبال پنجابی زبان میں کیا اور دونوں جانب سے انتہائی خوشگوار ماحول میں تبادلۂ خیال کیا گیا۔ ملاقات کے دوران امریکن سکھ وفد نے مریم نواز کے عوامی فلاحی منصوبوں، اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ اور خاص طور پر پنجاب میں "سکھ میرج ایکٹ” کے نفاذ کو شاندار الفاظ میں خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے انہیں ایک جرات مند اور وژنری لیڈر قرار دیا۔ وفد کے ارکان نے پنجاب بھر میں پنجابی زبان کے احیا اور سائن بورڈز پر پنجابی کے استعمال سمیت کرسمس کی تقریبات کے پرامن انعقاد پر بھی وزیراعلیٰ کی کارکردگی کو سراہا اور کہا کہ پوری دنیا میں بسنے والی سکھ برادری پنجاب حکومت کے ان اقدامات کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔

وزیراعلیٰ مریم نواز نے وفد سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پنجاب میں سکھ ورثے کا تحفظ ان کی حکومت کا اولین فرض ہے اور اس وقت صوبے کے 56 تاریخی گوردواروں کی تعمیر و مرمت اور بحالی کا کام تیزی سے جاری ہے تاکہ زائرین کو کسی قسم کی دشواری کا سامنا نہ ہو۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان دنیا کا واحد ملک ہے جہاں سکھ میرج ایکٹ نافذ کیا گیا ہے، جس کا مقصد سکھ بھائیوں کی مذہبی شناخت اور روایات کا بھرپور احترام یقینی بنانا ہے۔ مریم نواز نے مزید کہا کہ اقلیتوں کی معاشی بحالی کے لیے 75 ہزار اقلیتی کارڈز کا اجراء کیا گیا ہے جن کی تعداد میں مزید اضافہ کیا جائے گا کیونکہ ہر کمیونٹی میں تحفظ کے احساس کے بغیر ترقی کا سفر نامکمل ہے۔ انہوں نے سکھ یاتریوں کے لیے سیکیورٹی اور دیگر سہولیات کو مثالی بنانے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے سکھ برادری کو مذہبی سیاحت اور ہوٹلنگ کے شعبے میں سرمایہ کاری کی دعوت بھی دی اور کہا کہ گوردوارہ کرتار پور دنیا بھر کے لیے پاکستان کی جانب سے امن و آشتی کا ایک ناقابل تردید پیغام ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے