کراچی(ویب ڈیسک)متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے مرکزی رہنما اور وفاقی وزیر مصطفیٰ کمال نے بانی ایم کیو ایم پر سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ڈاکٹر عمران فاروق کو بانی متحدہ کے ایما پر قتل کیا گیا، انہوں نے نشے کی حالت میں عمران فاروق کو مارنے کا حکم دیا اور بانی متحدہ کی سالگرہ پر انہیں یہ وحشیانہ تحفہ پیش کیا گیا۔ کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے مصطفیٰ کمال کا کہنا تھا کہ بانی متحدہ ایک مکار شخص ہیں جو انسانی لاشوں پر سیاست کرتے ہیں اور انہوں نے ڈاکٹر عمران فاروق کی اہلیہ کی حالتِ زار پر بھی محض ڈرامہ سازی کی۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ بانی متحدہ نے ڈاکٹر عمران فاروق کی میت پاکستان بھیجنے کے نام پر دنیا بھر سے لاکھوں پاؤنڈز کا چندہ جمع کیا، حالانکہ ان کے پاس تکیے کے نیچے اور دفتر سے لاکھوں پاؤنڈز برآمد ہوئے تھے لیکن انہوں نے بیوہ کی مدد کے لیے رقم خرچ کرنے کے بجائے لوگوں سے اپیلیں کیں۔
مصطفیٰ کمال نے سخت الفاظ میں بانی متحدہ کو مہاجر قوم کا سب سے بڑا غدار اور مجرم قرار دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے 40 برسوں تک پوری نسل کو برباد کیا اور اب بھی وہی روش اپنائے ہوئے ہیں۔ وفاقی وزیر نے دعویٰ کیا کہ بانی متحدہ ‘را’ سے فنڈنگ لیتے رہے ہیں اور وہ خود کو کسی بادشاہ سے کم نہیں سمجھتے، انہوں نے ڈاکٹر عمران فاروق کے بچوں سے بھی اپیل کی کہ وہ کسی صورت بانی متحدہ سے رابطہ نہ رکھیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ جب بانی متحدہ کے پاس طاقت تھی اور ایک آواز پر لاکھوں لوگ جمع ہوتے تھے، تب انہوں نے کبھی مہاجر قوم یا آئینی ترامیم کے لیے جدوجہد نہیں کی، اگر وہ بیس سال پہلے یہ سب کرتے تو چند منٹوں میں مسائل حل ہو جاتے، مگر ان کا مقصد صرف اپنی سیاست چمکانا اور لوگوں کو استعمال کرنا تھا۔