کندھ کوٹ (کیو این این ورلڈ/وقاراحمداعوان کی رپورٹ)کندھ کوٹ میں میونسپل کمیٹی کی ناقص کارکردگی، مبینہ کرپشن اور بدانتظامی کے باعث شہری بنیادی سہولیات سے محروم ہو چکے ہیں، جبکہ وارڈ نمبر 12 سب سے زیادہ متاثر نظر آ رہا ہے۔ علاقہ مکینوں کے مطابق میونسپل کمیٹی کندھ کوٹ کی نااہلی، ٹاؤن میونسپل آفیسر (ٹی ایم او) کی عدم توجہی اور ترقیاتی کاموں کی نگرانی پر مامور وائس چیئرمین شیر محمد سھریانی کی مبینہ غفلت کے باعث وارڈ نمبر 12 میں تمام ترقیاتی منصوبے عملی طور پر ٹھپ ہو چکے ہیں۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ وارڈ نمبر 12 کی گلیاں، نالیاں اور آمد و رفت کے روڈز کئی برسوں سے تعمیر اور مرمت سے محروم ہیں۔ ہر سال ترقیاتی بجٹ مختص کیے جانے کے باوجود زمینی سطح پر کسی قسم کا عملی کام نظر نہیں آتا، جبکہ علاقہ مکینوں کا الزام ہے کہ یہ ترقیاتی فنڈز مبینہ طور پر ہڑپ کیے جا رہے ہیں۔ رہائشیوں کے مطابق موجودہ مالی سال میں بھی ترقیاتی فنڈز صرف کاغذی کارروائی تک محدود ہیں اور فیلڈ میں کسی قسم کی پیش رفت دکھائی نہیں دیتی۔
شہر کی اہم شاہراہیں بالخصوص گورنمنٹ ایلیمنٹری اسکول روڈ شدید خستہ حالی کا شکار ہو چکی ہیں، جہاں جگہ جگہ گڑھے، ٹوٹا ہوا اسفالٹ اور جمع شدہ گندا پانی شہریوں کے لیے شدید مشکلات کا سبب بن رہا ہے۔ وارڈ نمبر 12 کی بیشتر گلیاں کیچڑ، گندے پانی اور ٹوٹے پھوٹے راستوں کا منظر پیش کر رہی ہیں، جس کے باعث بزرگوں، خواتین اور بچوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ نکاسیٔ آب کا مؤثر نظام نہ ہونے کے باعث معمولی بارش میں بھی گھروں میں پانی داخل ہو جاتا ہے، جس سے ملیریا، ڈینگی اور دیگر وبائی امراض پھیلنے کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔
علاقہ مکینوں نے الزام عائد کیا ہے کہ وائس چیئرمین شیر محمد سھریانی کی نگرانی میں ہونے والے ترقیاتی منصوبوں میں یا تو ناقص میٹریل استعمال کیا گیا یا پھر کام سرے سے شروع ہی نہیں کیا گیا، جبکہ سرکاری ریکارڈ میں منصوبے مکمل ظاہر کر دیے گئے ہیں۔ شہریوں کے مطابق یہ صورتحال میونسپل کمیٹی کندھ کوٹ میں جاری مبینہ کرپشن اور بدانتظامی کی واضح مثال ہے، جس کے نتیجے میں عوام کا اعتماد بلدیاتی نظام سے اٹھتا جا رہا ہے۔
شہریوں اور سیاسی و سماجی حلقوں نے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ میونسپل کمیٹی کندھ کوٹ، ٹی ایم او اور وائس چیئرمین کے کردار کی فوری، غیر جانبدار اور شفاف تحقیقات کرائی جائیں۔ ان کا کہنا ہے کہ وارڈ نمبر 12 سمیت دیگر علاقوں کے ترقیاتی بجٹ کا مکمل آڈٹ کر کے مبینہ کرپشن میں ملوث عناصر کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے تاکہ شہریوں کو بنیادی سہولیات کی فراہمی ممکن بنائی جا سکے اور بلدیاتی نظام پر عوام کا اعتماد بحال ہو۔