اسلام آباد (کیو این این ورلڈ/حاجی محمد سعید کی رپورٹ) وفاقی دارالحکومت کی پولیس نے بوگس چیک دینے، مالی فراڈ اور شہریوں کو دھوکہ دہی کے ذریعے لوٹنے کے مختلف مقدمات میں مطلوب اشتہاری ملزم ڈاکٹر سمیع اللہ خان سہرانی کو گرفتار کر لیا ہے۔ ملزم، جو کہ ڈیرہ غازی خان کے سابق ریڈر سٹی مجسٹریٹ محمد طارق خان سہرانی کا بیٹا ہے، کو ایڈیشنل سیشن جج اسلام آباد کی عدالت سے عبوری ضمانت خارج ہونے پر پولیس نے کمرہ عدالت کے باہر سے حراست میں لیا۔ ملزم کے خلاف تھانہ رمنا اور تھانہ گولڑہ میں دھوکہ دہی، بوگس چیک دینے اور سنگین دھمکیوں کے الزامات کے تحت ایف آئی آر نمبر 268/24، 707/24 اور 705/24 درج ہیں، جن میں وہ طویل عرصے سے روپوش اور عدالتی مفرور چلا آ رہا تھا۔ ملزم کی روپوشی کے باعث حکام نے اس کا شناختی کارڈ اور پاسپورٹ بھی بلاک کر دیا تھا تاکہ اس کی بیرونِ ملک فرار ہونے کی کوششوں کو ناکام بنایا جا سکے۔
کیس کی تفصیلات کے مطابق ڈاکٹر سمیع اللہ سہرانی اپنے حقیقی بھائی ہمایوں طارق سہرانی، والد محمد طارق اور ایک دوست محمد عبیداللہ اعوان کے ہمراہ ایک منظم گروہ کی صورت میں سرگرم تھا، جس کا کام سادہ لوح شہریوں کو کاروبار کا جھانسہ دے کر ان سے بھاری رقوم بٹورنا اور بعد ازاں غائب ہو جانا تھا۔ ملزم کے دیگر ساتھیوں نے عدالت سے ضمانتیں حاصل کر لی تھیں تاہم ڈاکٹر سمیع اللہ مسلسل مفرور رہا۔ گزشتہ ہفتے ملزم نے تھانہ رمنا میں درج بوگس چیک کے مقدمے میں عبوری ضمانت کی درخواست دائر کی تھی، جس کی باقاعدہ سماعت کے دوران جرم کے شواہد سامنے آنے پر عدالت نے 9 جنوری 2026 کو اس کی ضمانت خارج کرنے کا حکم دیا۔ ضمانت خارج ہوتے ہی پولیس نے ملزم کو گرفتار کر لیا اور آج 10 جنوری 2026 کو اسے علاقہ مجسٹریٹ کی عدالت میں پیش کیا گیا، جہاں سے اسے 14 روزہ جوڈیشل ریمانڈ پر اڈیالہ جیل راولپنڈی منتقل کر دیا گیا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ گروہ عرصہ دراز سے اسلام آباد اور ڈیرہ غازی خان کے مختلف علاقوں میں شہریوں کو مالی نقصان پہنچانے میں ملوث ہے۔ متاثرہ شہریوں نے الزام عائد کیا ہے کہ یہ لوگ رقم کے عوض بوگس چیک تھماتے تھے اور جب رقم کی واپسی کا تقاضا کیا جاتا تو سنگین دھمکیاں دینے اور گالم گلوچ پر اتر آتے تھے۔ یہ گروہ گرفتاری سے بچنے کے لیے اکثر اپنے موبائل فون نمبرز بند کر دیتا اور ایک شہر سے دوسرے شہر منتقل ہو جاتا تھا، جس کی وجہ سے کئی متاثرین اپنی جمع پونجی سے محروم ہونے کے باوجود بے بس ہو چکے تھے۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ملزم سے مزید تفتیش جاری ہے اور اس کے خلاف زیرِ سماعت دیگر مقدمات میں بھی قانونی کارروائی کو منطقی انجام تک پہنچایا جائے گا تاکہ متاثرین کو انصاف فراہم کیا جا سکے۔