علی پور فحش ویڈیو اسکینڈل میں حیران کن موڑ، مدعیہ شازیہ کوثر نے بیان پلٹ دیا، ملزم ہدایت رضوی سے بھاری رقم لے کر زیادتی سے انکار – خاتون کے خلاف مقدمہ درج، فرار
مظفرگڑھ (ویب ڈیسک)ضلع مظفرگڑھ کی تحصیل علی پور میں نجی سکول آئیڈیل پبلک سکول کے مالک اور سابق تحصیل پریس کلب صدر سید ہدایت علی رضوی کے خلاف ٹیچرز اور طالبات کی نازیبا ویڈیوز بنانے اور جنسی استحصال کے سنگین الزامات والے سکینڈل میں ڈرامائی تبدیلی آ گئی ہے۔ مرکزی مدعیہ شازیہ کوثر نے عدالت میں اپنا بیان تبدیل کرتے ہوئے کہہ دیا کہ ان کے ساتھ کوئی زیادتی نہیں ہوئی، جس کے بعد عدالت نے ملزم ہدایت رضوی کی ضمانت منظور کر لی۔
ذرائع کے مطابق شازیہ کوثر نے ہدایت رضوی سے بھاری رقم وصول کر کے راضی نامہ کر لیا اور عدالت میں زیادتی سے مکمل انکار کا بیان دے دیا۔ متاثرہ خاتون ٹیچر شازیہ کوثر کے بھائی ناصر عباس کی مدعیت میں تھانہ سٹی علی پور میں ملزم کے خلاف دفعات 376 اور 292 کے تحت مقدمہ درج کرلیا گیا تھا۔
اس انکشاف پر پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے مدعیہ شازیہ کوثر کے خلاف ملزم سے سازباز، بھاری رقم لینے، جھوٹا مقدمہ درج کرانے اور عدالت میں غلط بیان دینے پر تھانہ سٹی علی پور میں مقدمہ درج کر لیا ہے۔ ترجمان ڈی پی او مظفرگڑھ نے تصدیق کی کہ شازیہ کوثر وقوعہ سے منحرف ہو گئیں اور رقم کے لین دین پر مقدمہ درج کیا گیا۔ ملزمہ گرفتاری سے بچنے کے لیے فرار ہو گئیں۔
دوسری جانب ڈی پی او مظفرگڑھ نے تھانہ کے ایس ایچ او الیاس خان کو بھی تبدیل کر دیا ہے، جو ممکنہ طور پر کیس کی تحقیقات میں کوتاہی یا دباؤ کے الزامات کی وجہ سے ہے۔ ہدایت علی رضوی ایک الگ مقدمے میں تاحال عبوری ضمانت پر ہیں۔
یاد رہے کہ یہ ہولناک مبینہ جنسی سکینڈل نومبر 2025 میں سامنے آیا تھا، جس نے صحافتی، تعلیمی اور سماجی حلقوں میں شدید ہلچل مچا دی تھی۔ ‘پاک صاف پاکستان’ نامی فیس بک آئی ڈی سے وائرل ہونے والی متعدد نازیبا ویڈیوز میں ہدایت علی رضوی کو مختلف خواتین، خصوصاً سکول کی ٹیچرز اور طالبات کے ساتھ مبینہ طور پر نازیبا سرگرمیوں میں دکھایا گیا تھا۔
ویڈیوز وائرل ہونے کے بعد علاقے میں شدید غم و غصہ پھیل گیا۔ تحصیل پریس کلب علی پور کے جنرل سیکرٹری محمد عمران سعیدی نے فوری طور پر ہدایت رضوی کو صدارت سے برطرف کر کے ان کی رکنیت ختم کر دی تھی۔
اب مدعیہ کے بیان پلٹنے سے کیس کا رخ مکمل تبدیل ہو گیا ہے، جو نہ صرف انصاف کے نظام پر سوالات اٹھاتا ہے بلکہ ممکنہ طور پر جھوٹے الزامات اور راضی ناموں کی روایت کو بھی اجاگر کرتا ہے۔ پولیس نے دونوں اطراف تحقیقات جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے۔