لاہور (ویب ڈیسک) پنجاب میں گزشتہ 6 سالوں کے دوران کم عمر بچوں اور بچیوں سے زیادتی کے واقعات سے متعلق ایک ہولناک رپورٹ سامنے آئی ہے، جس کے مطابق صوبے بھر میں اس عرصے کے دوران زیادتی کے مجموعی طور پر 5761 واقعات رپورٹ ہوئے ہیں۔ جاری کردہ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ ان کیسز میں سے 638 واقعات ایسے تھے جن میں معصوم بچوں کو اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا، جو معاشرے میں بڑھتے ہوئے اس سنگین جرم کی نشاندہی کرتے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق ان مقدمات میں نامزد 9 ہزار 524 ملزمان میں سے 1073 ملزمان پولیس کی گرفت سے دور ہیں اور تاحال گرفتار نہیں کیے جا سکے۔ اسی طرح اجتماعی زیادتی کے مقدمات میں بھی ملوث 1710 ملزمان میں سے 258 ملزمان کی گرفتاری تاحال عمل میں نہیں لائی جا سکی ہے۔

قانونی کارروائی کے حوالے سے رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ پولیس کی جانب سے کم عمر بچوں سے زیادتی کے کیسز میں اب تک 5 ہزار 756 چالان مکمل کر لیے گئے ہیں، جبکہ اجتماعی زیادتی کے 518 مقدمات کے چالان مکمل کر کے عدالتوں میں پیش کیے گئے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق اجتماعی زیادتی کے 334 کیسز اب بھی زیرِ تفتیش ہیں جبکہ ایک کیس تاحال ان ٹریس ہے، جس کی گتھیاں سلجھائی نہیں جا سکیں۔ انسانی حقوق کی تنظیموں اور سماجی حلقوں نے ان اعداد و شمار پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ معصوم بچوں کے تحفظ کے لیے قوانین پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنایا جائے اور مفرور ملزمان کو فوری گرفتار کر کے کڑی سزائیں دی جائیں تاکہ اس طرح کے گھناؤنے جرائم کا تدارک ممکن ہو سکے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے