اسلام آباد (کیو این این ورلڈ) قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے کابینہ سیکرٹریٹ کے اجلاس میں بیوروکریسی کی دہری شہریت کے خاتمے سے متعلق اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں وفاقی کابینہ سیکرٹریٹ کمیٹی کے ارکان نے سرکاری افسران کی دہری شہریت ختم کرنے کے حق میں ووٹ دے دیا، جبکہ ججوں کی دہری شہریت کے خاتمے کا مطالبہ بھی زور و شور سے سامنے آیا۔ کمیٹی نے اس معاملے پر 16 تاریخ کو حتمی فیصلہ کرنے کا اعلان کیا ہے۔

اجلاس کی صدارت چیئرمین کمیٹی ابرار احمد نے کی۔ اجلاس کے دوران رکن کمیٹی نور عالم خان نے سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے سوال اٹھایا کہ جب اراکین پارلیمنٹ کو دہری شہریت رکھنے کی اجازت نہیں تو بیوروکریسی کو یہ سہولت کیوں حاصل ہے۔ انہوں نے کہا کہ دہری شہریت ریاست سے وفاداری کے تصور سے متصادم ہے، حتیٰ کہ اگر ان کی بہن یا بیٹی بھی دہری شہریت رکھتی ہو تو وہ اس کے ساتھ بیٹھنے کو بھی تیار نہیں ہوں گے۔

اجلاس میں وزیر مملکت طاہرہ اورنگزیب نے بتایا کہ ان کی بیٹی آسٹریلوی نیشنل تھی، جس نے پارلیمنٹ میں آنے کے لیے اپنی غیر ملکی شہریت ترک کر دی، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ قانون سب کے لیے برابر ہونا چاہیے۔

سیکریٹری کابینہ کامران علی افضل نے کمیٹی کو یقین دہانی کراتے ہوئے کہا کہ اگر پارلیمنٹ اس حوالے سے فیصلہ کر لیتی ہے تو حکومت قانون سازی کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔ اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے اجلاس کو آگاہ کیا کہ اگرچہ 21 ممالک کے ساتھ دہری شہریت کی اجازت ہے، تاہم اس کے باوجود بعض افراد دیگر ممالک کی شہریت بھی حاصل کر لیتے ہیں، جو ایک سنجیدہ مسئلہ ہے۔

اجلاس میں ارکان نے یہ مطالبہ بھی کیا کہ دہری شہریت کی پابندی صرف بیوروکریسی تک محدود نہ رہے بلکہ ججوں پر بھی اس کا اطلاق ہونا چاہیے تاکہ ریاستی اداروں میں دوہرا معیار ختم کیا جا سکے۔

اجلاس کے دوران غزہ بورڈ آف پیس میں پاکستان کی شمولیت کے معاملے پر بھی تفصیلی بحث ہوئی۔ رکن کمیٹی آغا رفیع اللہ نے سوال اٹھایا کہ یہ سمری کس نے کابینہ میں پیش کی، جس پر سیکریٹری کابینہ نے وضاحت کی کہ وزارت خارجہ کی سمری پر وفاقی کابینہ نے متفقہ طور پر منظوری دی تھی اور وزیراعظم کا مؤقف بالکل درست ہے۔

علاوہ ازیں وفاقی سیکریٹریز کو 90 ہزار روپے سفری الاؤنس دینے کی تجویز بھی زیر بحث آئی۔ نور عالم خان نے طنزیہ انداز میں کہا کہ تمام پابندیاں صرف اراکین پارلیمنٹ کے لیے ہیں جبکہ افسران کو ہر قسم کی سہولت حاصل ہے۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ پالیسی کے مطابق سرکاری گاڑی لینے والے افسران سفری الاؤنس کے حقدار نہیں، مگر عملی طور پر کئی افسران دونوں مراعات حاصل کر رہے ہیں۔

چیئرمین کمیٹی نے سیکریٹری کابینہ کو ہدایت کی کہ اس پالیسی پر مؤثر چیک اینڈ بیلنس قائم کیا جائے، تاہم کابینہ ڈویژن نے افسران سے عمل درآمد کی تصدیق کے لیے سرٹیفکیٹ لینے کی شرط ختم کرنے کی تجویز کی مخالفت کی۔

کمیٹی اجلاس میں اٹھائے گئے تمام نکات کو آئندہ حکومتی پالیسی اور قانون سازی کے لیے نہایت اہم قرار دیا گیا، جبکہ 16 تاریخ کو دہری شہریت کے معاملے پر حتمی فیصلے کی توقع ظاہر کی گئی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے