لاہور (کیو این این ورلڈ) گورنر پنجاب سردار سلیم حیدر نے پنجاب لینڈ ریونیو (ترمیمی) آرڈیننس اور غیر منقولہ جائیداد ملکیت تحفظ (ترمیمی) آرڈیننس 2026ء جاری کر دیے ہیں۔ ان ترامیم کا بنیادی مقصد اراضی کے معاملات میں شفافیت، کارکردگی اور جوابدہی کے نظام کو مضبوط بنا کر مالکان کو سہولیات فراہم کرنا ہے۔
پنجاب لینڈ ریونیو ترمیمی آرڈیننس کے تحت اراضی کے نظام میں ڈیجیٹل جدت متعارف کرائی گئی ہے۔ اب سمن، نوٹسز اور اعلانات الیکٹرانک ذرائع سے بھیجے جائیں گے، جبکہ اراضی انتقال کے لیے "ای رجسٹریشن سسٹم” فعال کیا جائے گا۔ نئے قانون کے تحت زمین کے تمام انتقالات ڈیجیٹل ہوں گے اور پٹواری کے پاس اب صرف وراثتی انتقال کا اختیار باقی رہے گا۔
نئے ضوابط کے مطابق زمینوں کی حد بندی اور غیر قانونی قابضین کی بے دخلی کے لیے واضح قانونی طریقہ کار وضع کر دیا گیا ہے۔ مزید برآں، اب صرف بورڈ آف ریونیو کو یہ اختیار حاصل ہوگا کہ وہ کسی کیس کو نچلی عدالت میں ریمانڈ کے لیے بھیج سکے۔ اس اقدام سے اپیلوں اور نظرثانی کے عمل میں تیزی آئے گی۔
غیر منقولہ جائیداد ملکیت تحفظ آرڈیننس میں جائیداد کے تنازعات حل کرنے کے لیے "تنازعات حل کمیٹی” کو ختم کر کے اس کی جگہ "سکروٹنی کمیٹی” قائم کر دی گئی ہے۔ اس کمیٹی میں ڈپٹی کمشنر، ڈی پی او اور دیگر انتظامی افسران کے ساتھ ساتھ سرکل ریونیو آفیسر اور متعلقہ تھانہ انچارج کو بھی شامل کیا گیا ہے۔
جائیداد پر غیر قانونی قبضے کے جرم میں اب 5 سے 10 سال تک قید اور ایک کروڑ روپے تک جرمانہ یا دونوں سزائیں دی جا سکیں گی۔ دوسری جانب، جھوٹی شکایت کرنے والے کے لیے بھی 5 سال قید اور 5 لاکھ روپے جرمانہ مقرر کیا گیا ہے۔ اب شکایات براہِ راست حاضر سروس ججز پر مبنی ٹربیونل کے سامنے فائل کی جائیں گی۔
نئے قانون کے تحت ٹربیونل 30 دن کے اندر فیصلہ سنانے کا پابند ہوگا، جبکہ پہلے یہ مدت 90 دن تھی۔ سکروٹنی کمیٹی بھی اب 30 دن میں رپورٹ جمع کرانے کی پابند ہوگی۔ آرڈیننس کے تحت اب حاضر سروس ایڈیشنل سیشن ججز ٹربیونل کے ممبر ہوں گے، جبکہ پہلے ریٹائرڈ ججز کو یہ ذمہ داری دی جاتی تھی۔
واضح رہے کہ جائیداد ملکیت تحفظ ایکٹ پر لاہور ہائی کورٹ کی جانب سے عملدرآمد روکنے کے بعد یہ ترامیم کی گئی ہیں۔ ان نئے قوانین سے جائیداد کے تحفظ اور عدالتی کارروائیوں میں حائل رکاوٹیں دور ہونے کی توقع کی جا رہی ہے۔