ڈھاکہ (کیو این این ورلڈ) بنگلادیش میں حالیہ عام انتخابات کے نتیجے میں تاریخی کامیابی حاصل کرنے والی بنگلادیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) کے سربراہ طارق رحمان نے باقاعدہ طور پر ملک کے نئے وزیراعظم کے عہدے کا حلف اٹھا لیا ہے۔ حلف برداری کی پروقار تقریب جاتیہ سنگساد بھابھن کے ساؤتھ پلازہ میں منعقد ہوئی، جہاں بنگلادیش کے صدر محمد شہاب الدین نے نو منتخب وزیراعظم سے ان کے عہدے کا حلف لیا۔ اس موقع پر ملکی و غیر ملکی شخصیات کی بڑی تعداد موجود تھی، جبکہ پاکستان کی نمائندگی وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے کی، جنہوں نے مختلف ممالک کے مندوبین کے ہمراہ تقریب میں شرکت کی۔
حلف برداری سے قبل بنگلادیش کے چیف الیکشن کمشنر نے نو منتخب ارکانِ پارلیمنٹ سے بھی حلف لیا، جس کے بعد نئی حکومت کی تشکیل کا عمل مکمل ہوا۔ یاد رہے کہ 12 فروری 2026 کو ہونے والے عام انتخابات میں بی این پی نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے 209 نشستیں حاصل کیں اور ملک کی سب سے بڑی سیاسی قوت بن کر ابھری، جبکہ ان کی اتحادی جماعت اسلامی اور دیگر گروپس کو 77 نشستوں پر کامیابی ملی۔ ان انتخابات کو بنگلادیش کی سیاسی تاریخ میں انتہائی اہمیت کا حامل قرار دیا جا رہا ہے کیونکہ یہ طویل عرصے بعد ہونے والے آزادانہ مقابلے تھے۔
بنگلادیش میں اقتدار کی یہ تبدیلی ایک طویل سیاسی بحران کے بعد آئی ہے، جس کا آغاز اگست 2024 میں ہوا تھا جب سابق وزیراعظم شیخ حسینہ واجد شدید عوامی احتجاج اور پرتشدد مظاہروں کے باعث استعفیٰ دے کر بھارت فرار ہو گئی تھیں۔ شیخ حسینہ کے جانے کے بعد ملک کا انتظام عبوری طور پر نوبیل انعام یافتہ ماہرِ معاشیات ڈاکٹر محمد یونس کے سپرد کیا گیا تھا، جنہوں نے ملک میں شفاف انتخابات کے انعقاد کو یقینی بنایا۔ اب طارق رحمان کی قیادت میں بی این پی کی حکومت سے عوامی سطح پر بڑی توقعات وابستہ کی جا رہی ہیں تاکہ ملک کو مستحکم جمہوری اور معاشی راہ پر گامزن کیا جا سکے۔