وہاڑی (کیو این این ورلڈ) صدر مملکت آصف علی زرداری نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ سیاست میں مشکلات اور جیلیں برداشت نہیں ہوتیں تو کوئی آسان کام کر لیتے۔ وہاڑی میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صدر زرداری نے کہا کہ ابھی تو محض ڈیڑھ سال ہوا ہے اور وہاں سے چیخیں آنا شروع ہو گئی ہیں، بیٹا کہہ رہا ہے کہ ملنے نہیں دیا جا رہا، میں نے خود 14 سال جیل کاٹی اور جب باہر آیا تو میرے بچے قد میں مجھ سے بڑے ہو چکے تھے۔ انہوں نے طنزیہ مشورہ دیا کہ اگر سیاست نہیں نبھائی جاتی تو کرکٹ کے ‘گاڈ’ بن جاتے یا مدر ٹریسا کی طرح فلاحی کام کر لیتے، کیونکہ سیاست ہر کسی کے بس کی بات نہیں۔

صدر مملکت نے ملکی معیشت پر بات کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے تمام مسائل کا حل صرف زراعت کی ترقی میں ہے، کسانوں کو جدید سہولیات فراہم کرنا وقت کا تقاضا ہے۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ ملک میں وسائل کی کمی نہیں بلکہ صرف درست سوچ اور تسلسل کا فقدان ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ قومی ترقی کا انحصار کسانوں کو مضبوط بنانے پر ہے، جب تک کسان خوشحال نہیں ہوگا ملک ترقی نہیں کر سکتا۔ انہوں نے ججز کی تنخواہوں میں اضافے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وہ ہر قدم بہت سوچ سمجھ کر اٹھاتے ہیں تاکہ نظام میں توازن پیدا ہو سکے۔

آصف علی زرداری نے صوبائی سیاست پر گفتگو کرتے ہوئے خیبر پختونخوا حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ وہاں کی حکومت صرف مار کٹائی پر تلی ہوئی ہے، انہیں ملک بنانا ہے نہ لوگوں کے کام کرنے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملک ایک سال رک جائے تو 10 سال پیچھے چلا جاتا ہے اور یہ ملک چار سال تک ایک ایسے شخص کی وجہ سے رکا رہا جسے روزانہ ٹی وی پر بھاشن دینے کی عادت تھی۔ بلوچستان کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ وہاں کے عوام کا درد محسوس کرتے ہیں، حالات پہلے سے بہتر ہیں لیکن مکمل بہتری میں ابھی وقت لگے گا۔

کشمیر کے مسئلے پر اپنا دو ٹوک موقف دہراتے ہوئے صدر زرداری نے کہا کہ کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے اور اس کے ایک انچ پر بھی سمجھوتا نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے ذوالفقار علی بھٹو شہید کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے علاقائی خطرات کو بھانپتے ہوئے پاکستان کو ایٹمی قوت بنایا تاکہ ملک کا دفاع ناقابل تسخیر ہو سکے۔ انہوں نے واضح کیا کہ حکمرانی کے لیے لچک اور سیاسی بلوغت ضروری ہے، تنہا پسندانہ رجحانات ملک کو نقصان پہنچاتے ہیں اس لیے سیاسی تعاون وقت کی اہم ضرورت ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے