اسلام آباد (کیو این این ورلڈ):وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ انڈس اے آئی ویک 2026 پاکستان کے ٹیکنالوجیکل منظرنامے میں انقلابی تبدیلی لانے کی صلاحیت رکھتا ہے اور یہ ایونٹ ملک کو مصنوعی ذہانت کے میدان میں عالمی سطح پر متعارف کرانے میں اہم کردار ادا کرے گا۔
اسلام آباد میں انڈس اے آئی ویک 2026 کی افتتاحی تقریب منعقد ہوئی، جس میں وزیراعظم شہباز شریف نے شرکت کی۔ تقریب کے ساتھ ہی ملک میں مصنوعی ذہانت کے فروغ کے لیے منعقدہ اس اہم ایونٹ کا باضابطہ آغاز ہو گیا۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ حکومت نوجوانوں کو جدید دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے لیے جامع اور مؤثر اقدامات کر رہی ہے۔ ان اقدامات میں ہونہار طلبہ کو لیپ ٹاپ کی فراہمی، ای لائبریریز کا قیام اور تعلیمی شعبے میں وسیع ڈیجیٹل اصلاحات شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان مشترکہ عزم اور جذبے کے ساتھ ترقی کی راہ پر گامزن ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ لاہور میں پہلا سیف سٹی منصوبہ اور ملک کی پہلی آئی ٹی یونیورسٹی کا قیام اسی وژن کا تسلسل ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ای اسٹامپ پیپر کے اجرا سے حکومتی آمدن میں اضافہ ہوا جبکہ زمین کے ریکارڈ کو ڈیجیٹل بنا کر شفافیت کو یقینی بنایا گیا۔ لینڈ ریکارڈ میں اصلاحات کے باعث کرپشن کے خاتمے میں مدد ملی اور ریونیو افسران کی بدعنوانی کا مؤثر سدباب ممکن ہوا۔
شہباز شریف نے مزید کہا کہ ایف بی آر کی مکمل ڈیجیٹائزیشن سے محصولات کی وصولی میں شفافیت آئی ہے جبکہ سمگلنگ کی روک تھام کے لیے بندرگاہوں پر جدید سکینرز اور دیگر آلات نصب کیے گئے ہیں، جس سے معیشت کو مضبوط بنانے میں مدد ملی۔
وزیراعظم نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان کی آبادی کا تقریباً 60 فیصد حصہ نوجوانوں پر مشتمل ہے اور انہیں جدید علم، ٹیکنالوجی اور مہارتوں سے آراستہ کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اب مصنوعی ذہانت کے شعبے میں عالمی سطح پر قدم رکھنے کے لیے تیار ہے۔
انہوں نے بتایا کہ حکومت نے دیہی علاقوں تک رسائی حاصل کرتے ہوئے نوجوانوں کو جدید تعلیم اور تکنیکی مہارتیں فراہم کیں، جبکہ وفاق، آزاد کشمیر، گلگت بلتستان اور بلوچستان کے سکولوں میں اے آئی کا نصاب متعارف کرا دیا گیا ہے، جو مستقبل کی معیشت کے لیے ایک سنگ میل ثابت ہوگا۔
اس موقع پر وفاقی وزیر آئی ٹی شیزا فاطمہ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان تیزی سے ڈیجیٹل انقلاب کی جانب بڑھ رہا ہے اور انڈس اے آئی ویک جامعات، اسٹارٹ اپس اور عالمی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے درمیان تعاون کے نئے مواقع پیدا کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ ڈیجیٹل اسکلز پروگرام کے ذریعے عوام کو بنیادی اے آئی مہارتیں فراہم کی جا رہی ہیں جبکہ ٹیکس نظام میں اے آئی پر مبنی ٹریک اینڈ ٹریس نظام سے شفافیت میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔
وفاقی وزیر احسن اقبال نے اپنے خطاب میں کہا کہ حکومت نے ملک کو ڈیجیٹل ترقی کی راہ پر گامزن کیا ہے اور آئی ٹی کے شعبے پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کو چوتھے صنعتی انقلاب کے تقاضوں کے مطابق تیار کیا جا چکا ہے، جس سے معیشت اور روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔