اسلام آباد (کیو این این ورلڈ) ازبکستان کے صدر شوکت مرزائیوف نے پاکستان کے تاجروں اور سرمایہ کاروں کے لیے ایک تاریخی مراعاتی پیکیج کا اعلان کرتے ہوئے انہیں ازبکستان میں کاروبار کرنے پر 10 سال کے لیے ٹیکس سے مکمل استثنیٰ دینے کا اعلان کیا ہے۔ یہ اہم اعلان اسلام آباد میں منعقدہ "پاکستان ازبکستان بزنس فورم” کے دوران کیا گیا، جس میں وزیراعظم شہباز شریف اور دونوں ممالک کی اعلیٰ قیادت نے شرکت کی۔

بزنس فورم سے خطاب کرتے ہوئے ازبک صدر نے کہا کہ پاکستان اور ازبکستان کے تعلقات اب کثیرالجہتی شراکت داری میں بدل چکے ہیں۔ انہوں نے پاکستانی سرمایہ کاروں کو ازبکستان میں ٹیکسٹائل، ادویات سازی اور آلاتِ جراحی سمیت مختلف شعبوں میں کارخانے لگانے کی دعوت دیتے ہوئے یقین دلایا کہ وہاں انہیں ہر قسم کا سازگار اور محفوظ ماحول فراہم کیا جائے گا۔

وزیراعظم شہباز شریف نے اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے ازبک صدر کے اس اقدام کو سراہا اور دونوں ممالک کے نجی شعبوں کے درمیان 3 ارب 40 کروڑ ڈالر کے تجارتی سمجھوتوں کو ایک بڑی پیش رفت قرار دیا۔ وزیراعظم نے واضح کیا کہ پاکستان اور ازبکستان کے درمیان باہمی تجارت کا حجم جلد ہی 2 ارب ڈالر تک پہنچ جائے گا، جس کے لیے سائنس، ٹیکنالوجی، زراعت اور توانائی کے شعبوں میں تعاون کو مزید وسعت دی جا رہی ہے۔

فورم کے دوران دونوں ممالک کے مابین زراعت، لائیو اسٹاک، معدنیات اور ٹیکسٹائل مصنوعات کی پیداوار و برآمدات سے متعلق اہم دستاویزات کا تبادلہ بھی کیا گیا۔ ازبک صدر نے 2026ء کو باہمی تعاون پر مبنی شراکت داری کا سال قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستانی تاجروں کو فراہم کردہ ٹیکس مراعات سے دونوں ممالک کی معیشتوں پر مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے