اسلام آباد (کیو این این ورلڈ) حریت رہنما یاسین ملک کی اہلیہ مشعال ملک نے اپنے ایک ویڈیو پیغام میں عالمی برادری کی مجرمانہ خاموشی پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے سوال اٹھایا ہے کہ مقبوضہ وادی میں ہونے والی کھلے عام دہشت گردی پر دنیا کیوں خاموش ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ کشمیر محض ایک علاقائی تنازعہ نہیں بلکہ دنیا کا سب سے خطرناک ‘نیوکلیئر فلیش پوائنٹ’ ہے، جس پر عالمی برادری کی بے حسی پورے خطے کے امن کو داؤ پر لگا سکتی ہے۔ مشعال ملک نے بھارتی حکومت کے جابرانہ ہتھکنڈوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ مودی سرکار حقِ خود ارادیت کی آواز کو دبانے کے لیے اب کشمیری قیادت کو پھانسی دینے کی منصوبہ بندی کر رہی ہے۔
مشعال ملک کا کہنا تھا کہ حریت رہنما یاسین ملک کو ڈیتھ سیل میں قید رکھنا دراصل پوری کشمیری قوم کو سزا دینے کے مترادف ہے۔ انہوں نے جذباتی انداز میں سوال کیا کہ کیا اپنے امن، وقار اور آزادی کا مطالبہ کرنا کشمیریوں کے لیے اتنا بڑا جرم بن چکا ہے کہ انہیں بدترین انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ انہوں نے مقبوضہ وادی کی صورتحال کی عکاسی کرتے ہوئے کہا کہ وہاں ہر آنسو پر پابندی اور ہر دھڑکن پر خوف کا پہرہ ہے، اور یہ عالمی برادری کے انصاف پر ایک بہت بڑا سوالیہ نشان ہے۔ مشعال ملک نے مطالبہ کیا کہ انسانی حقوق کے علمبردار ادارے بھارت کے ان مظالم کا فوری نوٹس لیں اور کشمیریوں کو ان کے بنیادی حقوق دلانے کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔