لاہور (کیو این این ورلڈ) صوبائی دارالحکومت کے علاقے بھاٹی چوک میں ماں بیٹی کے سیوریج لائن میں گر کر جاں بحق ہونے کے دلخراش واقعے کی ابتدائی رپورٹ مرتب کر لی گئی ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے واقعے کا سخت نوٹس لیتے ہوئے ذمہ داروں کو قرار واقعی سزا دینے کا حکم دیا ہے، جس کے بعد پولیس کو مقدمے کے اندراج کے لیے درخواست دے دی گئی ہے۔ اس افسوسناک واقعے میں 24 سالہ خاتون سعدیہ اور ان کی 10 ماہ کی کمسن بیٹی ردا فاطمہ جاں بحق ہو گئیں، جن کی لاشیں کئی گھنٹوں کے سرچ آپریشن کے بعد آؤٹ فال روڈ اور سگیاں کے قریب سے برآمد ہوئیں۔

فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی کی ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ ٹیپا انتظامیہ نے واقعے کے بارے میں پہلے غلط بریفنگ دی، تاہم سی سی ٹی وی فوٹیج اور متاثرہ خاتون کے شوہر کے بیان کے بعد سچائی سامنے آئی۔ رپورٹ کے مطابق اوپن اور غیر محفوظ مین ہول اس حادثے کا بنیادی سبب بنا، جہاں مانیٹرنگ ٹیم نے مجرمانہ غفلت برتی۔ وزیراعلیٰ نے واضح کیا کہ انسانی جانوں کے ضیاع پر کسی قسم کی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی اور پوری ٹیم کو فوری معطل کر کے انکوائری کا دائرہ وسیع کر دیا گیا ہے۔

ڈی جی ایل ڈی اے نے وزیراعلیٰ کی ہدایت پر داتا دربار منصوبے پر کام کرنے والی پوری ٹیم کو معطل کر دیا ہے، جن میں پراجیکٹ ڈائریکٹر، ڈپٹی ڈائریکٹر، اسسٹنٹ ڈائریکٹر اور سب انجینئر شامل ہیں۔ ٹیپا کی جانب سے تھانہ بھاٹی دروازہ میں دی گئی درخواست میں منصوبے کے ٹھیکیدار، پراجیکٹ منیجر اور سیفٹی انچارج کو نامزد کیا گیا ہے۔ درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ سائٹ پر بیریکیڈنگ، وارننگ سائنز اور مین ہول کور فراہم نہ کرنا کنٹریکٹر کی ذمہ داری تھی، جس کی عدم موجودگی نے معصوم جانیں نگل لیں۔

تحقیقات کے دوران نجی کمپنی کو شو کاز نوٹس جاری کر دیا گیا ہے جبکہ ریزیڈنٹ انجینئر نیسپاک کی معطلی اور ان کے خلاف محکمانہ کارروائی کی سفارش بھی کی گئی ہے۔ ڈی آئی جی آپریشنز فیصل کامران کے مطابق سی سی ٹی وی فوٹیج سے ثابت ہوا کہ متاثرہ فیملی داتا دربار پر سلام کے بعد نکل رہی تھی کہ اندھیرے اور کھدائی کے باعث یہ حادثہ پیش آیا۔ پولیس نے پہلے قتل کے شک میں شوہر کو حراست میں لیا تھا، تاہم حقیقت سامنے آنے پر انہیں رہا کر دیا گیا۔

عوامی حلقوں نے اس واقعے پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ شہر بھر میں کھلے مین ہولز اور ادھورے ترقیاتی منصوبوں پر حفاظتی اقدامات کو فوری یقینی بنایا جائے تاکہ مستقبل میں ایسے حادثات سے بچا جا سکے۔ وزیراعلیٰ کی بنائی گئی ایڈیشنل چیف سیکرٹری کی سربراہی میں کمیٹی 24 گھنٹے میں حتمی رپورٹ پیش کرے گی، جس کی روشنی میں مزید سخت قانونی اقدامات متوقع ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے