واشنگٹن (کیو این این ورلڈ) عالمی اداروں میں کلیدی عہدوں پر فائز بھارتی شہریوں کی موجودگی اور ان کی حساس معلومات تک رسائی بین الاقوامی سطح پر ایک سنگین سیکیورٹی چیلنج بن کر ابھری ہے۔ بین الاقوامی نشریاتی ادارے کی تازہ رپورٹ کے مطابق، امریکی سائبر دفاعی ادارے "سائبر سیکیورٹی اینڈ انفراسٹرکچر سیکیورٹی ایجنسی” کے عبوری سربراہ مدھو گوتمکلا نے حساس سرکاری دستاویزات کو ایک عام "اے آئی ایپلیکیشن” پر اپ لوڈ کر دیا، جو کہ سرکاری قوانین کے تحت ممنوع تھا۔

اس واقعے کے منظرِ عام پر آنے کے بعد امریکی محکمہ داخلی سلامتی (DHS) میں شدید تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے اور اس حوالے سے اعلیٰ سطح کی تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ واضح رہے کہ مدھو گوتمکلا بھارتی نژاد ہیں اور ان کا تعلق بھارتی ریاست آندھرا پردیش سے ہے۔ دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ نہیں بلکہ طویل عرصے سے ایک مخصوص پیٹرن واضح ہو رہا ہے جس میں بھارتی نژاد افراد حساس ڈیٹا کی چوری یا جاسوسی میں ملوث پائے گئے ہیں۔

ماضی کے واقعات پر نظر ڈالی جائے تو اکتوبر 2025 میں بھی ایک بھارتی نژاد امریکی اسٹریٹجک ماہر ایشلی جے ٹیلس کو گرفتار کیا گیا تھا، جن کے قبضے سے ایک ہزار سے زائد ٹاپ سیکریٹ امریکی دفاعی دستاویزات برآمد ہوئی تھیں۔ اسی طرح 2023 میں قطر میں بھی بھارتی بحریہ کے آٹھ سابق افسران کو جاسوسی کے الزامات میں گرفتار کیا گیا تھا، جس نے خلیجی ممالک میں بھارتی مداخلت کو بے نقاب کیا تھا۔

دفاعی ماہرین کا ماننا ہے کہ بھارت ایک منظم اور سوچی سمجھی حکمت عملی کے تحت مغربی اور خلیجی ممالک کے کلیدی عہدوں پر اپنے شہریوں کو تعینات کروا رہا ہے تاکہ ان کے ذریعے حساس معلومات اور دفاعی منصوبوں تک رسائی حاصل کی جا سکے۔ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اس قسم کے واقعات عالمی سائبر نظام اور دفاعی ڈھانچے کے لیے بڑا خطرہ ہیں، جس کا فوری تدارک ضروری ہے۔

ماہرین نے امریکہ سمیت تمام مغربی اور خلیجی ممالک کو مشورہ دیا ہے کہ وہ حساس سرکاری عہدوں پر فائز افراد کے پس منظر، ان کے آبائی ملک سے روابط اور مفادات کا سخت ترین جائزہ لیں۔ دفاعی تجزیہ نگاروں کے مطابق، جب تک حساس عہدوں پر تقرری کے لیے سیکیورٹی کلیئرنس کے معیار کو مزید سخت نہیں کیا جاتا، تب تک اس قسم کے سیکیورٹی چیلنجز سے نمٹنا ممکن نہیں ہوگا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے