ننکانہ صاحب (کیو این این ورلڈ/نامہ نگاراحسان اللہ ایاز) چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر میاں ندیم جالندھر نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ جنوری 2026 کی مانیٹری پالیسی میں شرحِ سود کو فوری طور پر 11 فیصد سے کم کیا جائے تاکہ صنعتی پہیہ گردش کر سکے۔ اپنے دفتر میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ دسمبر 2025 میں کنزیومر پرائس انڈیکس (CPI) محض 2.7 فیصد رہا ہے، جبکہ خطے کے دیگر ممالک میں شرحِ سود پاکستان کے مقابلے میں نمایاں طور پر کم ہے، لہٰذا صنعتوں کی بقا کے لیے سود کی شرح میں بڑی کمی ناگزیر ہو چکی ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ حکومت صنعتوں کو سستی بجلی فراہم کرے اور لائف لائن صارفین کو دی جانے والی سبسڈی کا بوجھ صنعت پر ڈالنے کے بجائے اسے حکومتی بجٹ سے پورا کیا جائے، کیونکہ کراس سبسڈی ایک بالواسطہ ٹیکس ہے جسے صنعت اب مزید برداشت کرنے کی سکت نہیں رکھتی۔

صدر چیمبر آف کامرس نے برآمدات میں اضافے کے لیے فائنل ٹیکس ریجیم کی بحالی، 1.25 فیصد ٹرن اوور ٹیکس کے خاتمے اور کمپنیوں پر عائد 39 فیصد ٹیکس کو کم کر کے 20 فیصد تک لانے کا مطالبہ بھی کیا۔ میاں ندیم جالندھر کا کہنا تھا کہ تنخواہ دار طبقے پر ٹیکس کی زیادہ سے زیادہ شرح 15 فیصد مقرر کی جائے اور صنعت کے لیے گیس کی قیمت 2300 روپے فی MMBTU فکس کی جائے۔ انہوں نے حکومت کو مشورہ دیا کہ ملک میں سرمایہ کاری اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے لیے کم از کم 10 سالہ طویل المدتی صنعتی پالیسی کا اعلان کیا جائے، جس میں ٹیکسوں اور توانائی کی قیمتوں کا پہلے سے تعین ہو تاکہ صنعت کار اعتماد کے ساتھ اپنی سرمایہ کاری کو وسعت دے سکیں اور ملک معاشی ترقی کی راہ پر گامزن ہو سکے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے