اوچ شریف (کیو این این ورلڈ/نامہ نگارحبیب خان)موضع محمد پور میں انسانیت سوز واقعہ سامنے آیا ہے جہاں ایک شادی شدہ خاتون شمشاد بی بی نے ریسکیو 1122 کے مبینہ اہلکار اور اس کے ساتھیوں پر اجتماعی زیادتی، وحشیانہ تشدد اور نازیبا ویڈیوز بنا کر بلیک میل کرنے کا سنگین الزام عائد کر دیا ہے۔ متاثرہ خاتون نے تھانہ اوچ شریف میں جمع کروائی گئی تحریری درخواست میں مؤقف اختیار کیا ہے کہ ملزم احسان الحق، جو خود کو ریسکیو 1122 کا اہلکار ظاہر کرتا ہے، اسے طویل عرصے سے ہراساں کر رہا تھا اور شادی کے لیے دباؤ ڈال رہا تھا، تاہم انکار پر ملزم نے اپنے دو ساتھیوں ربنواز اور دلاور حسین کے ساتھ مل کر ایک ہولناک منصوبہ تیار کیا۔ درخواست کے مطابق ملزمان نے خاتون کے شوہر کی کراچی میں موجودگی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے چادر و چار دیواری کا تقدس پامال کیا اور گھر میں داخل ہو کر اسے بالوں سے گھسیٹ کر کمرے میں لے گئے، جہاں اسے اجتماعی درندگی کا نشانہ بنایا گیا اور اس دوران ملزمان نے نازیبا ویڈیوز اور تصاویر بھی بنائیں تاکہ اسے بلیک میل کیا جا سکے۔

متاثرہ خاتون نے انکشاف کیا ہے کہ ملزمان اب ان ویڈیوز کی بنیاد پر اسے جان سے مارنے اور بدنام کرنے کی دھمکیاں دے رہے ہیں جبکہ مزاحمت کرنے پر اسے بدترین جسمانی تشدد کا نشانہ بھی بنایا گیا، جس سے وہ شدید ذہنی و جسمانی صدمے کا شکار ہے۔ خاتون کے مطابق ملزمان خود کو بااثر ظاہر کر کے پولیس کارروائی رکوانے کے لیے دباؤ ڈال رہے ہیں اور انہیں خدشہ ہے کہ اگر فوری انصاف نہ ملا تو ان کی زندگی کو شدید خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔ اس واقعے نے علاقے میں شدید خوف و ہراس پھیلا دیا ہے اور شہریوں سمیت انسانی حقوق کی تنظیموں نے اسے ریاستی ادارے کی ساکھ پر سوالیہ نشان قرار دیتے ہوئے ڈی پی او بہاولپور اور اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ ملزمان کو فوری گرفتار کر کے نشانِ عبرت بنایا جائے۔ متاثرہ خاتون نے اپیل کی ہے کہ واقعے کی شفاف تحقیقات کرائی جائیں اور اگر ملزم کی وابستگی ریسکیو 1122 سے ثابت ہو جائے تو اس کے خلاف سخت محکمانہ کارروائی بھی عمل میں لائی جائے تاکہ مستقبل میں کوئی سرکاری وردی کی آڑ میں ایسی درندگی کی جرات نہ کر سکے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے