رینالہ خورد (کیو این این ورلڈ/سٹی رپورٹر) یونیورسٹی آف اوکاڑہ کے زیرِ اہتمام تیسرے سالانہ کانووکیشن کی پروقار تقریب منعقد ہوئی، جس میں مجموعی طور پر 4 ہزار 924 فارغ التحصیل طلبہ میں اسناد تقسیم کی گئیں۔ تقریب کی صدارت صوبائی وزیر برائے اعلیٰ تعلیم رانا سکندر حیات نے کی، جبکہ وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر سجاد مبین، پرو وائس چانسلر ڈاکٹر محمد واجد، رجسٹرار جمیل عاصم اور کنٹرولر امتحانات ڈاکٹر فہیم ارشد بھی اسٹیج پر موجود تھے۔ کانووکیشن کے دوران مختلف شعبہ جات میں نمایاں کارکردگی دکھانے والے 72 پوزیشن ہولڈرز کو گولڈ میڈلز سے نوازا گیا، جبکہ گزشتہ ایک برس کے دوران اپنی تحقیق مکمل کرنے والے 18 پی ایچ ڈی اسکالرز نے بھی اپنی ڈگریاں وصول کیں۔
تقریب کے مہمانِ خصوصی صوبائی وزیر رانا سکندر حیات نے اپنے خطاب میں وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر سجاد مبین کی متحرک قیادت کو سراہتے ہوئے کہا کہ یونیورسٹی آف اوکاڑہ نے تعلیمی معیار اور بنیادی ڈھانچے کی ترقی میں مختصر عرصے میں نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ انہوں نے یونیورسٹی کی قومی اور بین الاقوامی درجہ بندی میں بہتری پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ یہ ادارہ جلد ہی ملک کی صفِ اول کی جامعات میں شامل ہو جائے گا۔ اس موقع پر انہوں نے فارغ التحصیل طلبہ کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ نوجوان محنت اور لگن کو اپنا شعار بنائیں اور ملک کی ترقی میں اپنا مثبت کردار ادا کریں۔ صوبائی وزیر نے یونیورسٹی میں مصنوعی ذہانت (Artificial Intelligence) کے مرکزِ امتیاز (Center of Excellence) کے قیام کا بھی اعلان کیا۔
وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر سجاد مبین نے تقریب میں شرکت پر صوبائی وزیر کا شکریہ ادا کیا اور یونیورسٹی کے جاری ترقیاتی منصوبوں اور تعلیمی اصلاحات پر تفصیلی روشنی ڈالی۔ انہوں نے فارغ التحصیل طلبہ کو نصیحت کی کہ عملی زندگی کے چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے لیے خود اعتمادی اور جدت پسندی ضروری ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ طلبہ دیانت داری سے محنت کریں اور بڑے خواب دیکھیں تاکہ وہ معاشرے کے لیے ایک کارآمد شہری ثابت ہو سکیں۔ تقریب کے اختتام پر معزز مہمانوں نے کامیاب طلبہ میں شیلڈز اور اسناد تقسیم کیں، جبکہ اساتذہ اور والدین نے طلبہ کی اس اہم کامیابی پر خوشی کا اظہار کیا۔