لاہور (کیو این این ورلڈ)آج اردو ادب اور نعت خوانی کی دنیا کے ممتاز شاعر مظفر وارثی کی وفات کو 15 برس مکمل ہو گئے ہیں۔ حمد ہو یا نعت، غزل یا گیت، ہر صنف سخن میں انہوں نے اپنی فنی مہارت کا لوہا منوایا اور اپنی منفرد آواز اور کلام سے دلوں کو چھو جانے والا اثر چھوڑا۔ مظفر وارثی کی شاعری میں عقیدت، محبت اور وجد کا ایسا امتزاج موجود ہے جو آج بھی اردو ادب کے شائقین اور محافل نعت میں زندہ ہے۔
مظفر وارثی 23 دسمبر 1933ء کو برطانوی ہندوستان کے شہر میرٹھ (موجودہ اتر پردیش، بھارت) میں پیدا ہوئے۔ ان کا اصل نام محمد مظفرالدین احمد صدیقی تھا۔ وہ ایک مذہبی اور ادبی گھرانے سے تعلق رکھتے تھے؛ ان کے والد الحاج صوفی شرف الدین احمد صدیقی (معروف بہ صوفی وارثی) ایک معروف عالم دین، شاعر اور طبیب تھے، جو چشتی قادری سہروردی سلسلے سے وابستہ تھے۔ ابتدائی تعلیم انہوں نے میرٹھ کے ہائی اسکول سے حاصل کی اور تقسیم ہند کے بعد 1947ء میں خاندان سمیت پاکستان منتقل ہو گئے۔ لاہور میں سکونت اختیار کرنے کے بعد انہوں نے میٹرک کا امتحان پاس کیا اور بعد میں اسٹیٹ بینک آف پاکستان میں نائب خزانچی کے عہدے پر ملازمت اختیار کی۔ ان کی ادبی تربیت گھر سے ہی شروع ہوئی تھی اور وہ جلد ہی لاہور کے ادبی حلقوں میں شامل ہو گئے۔ ان کی شاعری کا تخلص ‘مظفر’ تھا، اور وہ اردو ادب کے عہد ساز شعرا میں شمار ہوتے ہیں۔
مظفر وارثی نے اپنی شاعری میں لازوال حمد اور نعت کی تخلیقات پیش کیں، جنہوں نے انہیں بے پناہ شہرت بخشی۔ ان کی نعتیہ شاعری میں عقیدت اور محبت کا ایک منفرد رنگ ہے، جو سننے والوں کے دلوں کو چھو جاتا ہے۔ ان کی مشہور نعتیں اور حمدیں آج بھی محافل میں گائی جاتی ہیں، جیسے ‘یا رحمت اللعالمین’، ‘لانبی بعد’، ‘ورفعنالک ذکرک’، ‘تو کجا من کجا’، ‘میرا پیمبر عظیم تر ہے’ اور حمد میں ‘کوئی تو ہے جو نظام ہستی چلا رہا ہے’۔ ان کے نعت خوانی کے انداز میں جذبات کی شدت، آواز کی پراثر لہریں اور کلمات کی روانی شامل تھی، جس نے ان کے کلام کو زندہ کر دیا۔ مظفر وارثی نے اپنے کلام کو کئی مجموعوں میں مرتب کیا، جن میں ‘الحمد’، ‘لا شریک’، ‘دل سے در نبی تک’، ‘صاحب التاج’، ‘کعبہ عشق’ اور ‘میرے اچھے رسول’ شامل ہیں۔ ان کی شاعری میں مذہبی جذبے کے ساتھ انسانی جذبات اور فطری حسن کی عکاسی بھی پائی جاتی ہے، جو انہیں اردو ادب کے منفرد اور لازوال شاعر کے طور پر قائم رکھتی ہے۔
پاکستانی فلم انڈسٹری بھی مظفر وارثی کے بغیر ادھوری تھی۔ انہوں نے ابتدائی طور پر فلمی گیت لکھے، جو عوام میں زبردست مقبولیت حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے۔ فلم ‘ہمراہی’ (1966) کے گیت جیسے ‘کیا کہوں اے دنیا والو کیا کہوں میں’، ‘مجھے چھوڑ کر اکیلا کہیں دور جانے والے’ اور ‘یاد کرتا ہے زمانہ انہی انسانوں کو’ آج بھی کلاسک سمجھے جاتے ہیں۔ ان گیتوں میں انسانی جذبات، محبت، جدائی اور وقت کی عکاسی موجود ہے۔ مظفر وارثی نے متعدد دیگر فلموں کے لیے بھی گیت لکھے، لیکن بعد کے عرصے میں انہوں نے مکمل طور پر حمد و نعت کی طرف توجہ مرکوز کر دی اور فلمی دنیا سے کنارہ کش ہو گئے، تاکہ اپنی روحانی اور ادبی خدمات کو مزید مستحکم کر سکیں۔
ان کی فنی اور ادبی خدمات کے اعتراف میں حکومت پاکستان نے انہیں صدراتی تمغہ برائے حسن کارکردگی (پرائیڈ آف پرفارمنس) سے نوازا، علاوہ ازیں انہیں ‘فصیح الہند’ اور ‘شرف الشعرا’ جیسے اعزازی خطاب بھی دیے گئے۔ ان کی خودنوشت سوانح ‘گئے دنوں کا سراغ’ بھی شائع ہوئی، جو ان کی زندگی کے مختلف پہلوؤں کو اجاگر کرتی ہے اور ان کی ادبی جدوجہد کی نمایاں مثال ہے۔
مظفر وارثی 28 جنوری 2011ء کو لاہور میں طویل علالت کے بعد 77 سال کی عمر میں انتقال کر گئے۔ وہ رعشے کے مرض میں مبتلا تھے، اور ان کی نماز جنازہ جوہر ٹاؤن، لاہور میں ادا کی گئی۔ ان کی وفات سے اردو ادب اور نعت خوانی کی دنیا کو ایک ناقابلِ تلافی نقصان پہنچا، مگر آج 15 سال بعد بھی ان کی یاد اور ان کا کلام نئی نسل کے لیے رہنمائی اور جذبے کا سبب ہے۔ مظفر وارثی کی خدمات نہ صرف پاکستان بلکہ اردو زبان بولنے والے تمام ممالک میں آج بھی زندہ ہیں۔ ان کی شاعری اور نعتیہ کلام کی مقبولیت ٹی وی، ریڈیو اور سوشل میڈیا پر برقرار ہے، اور ادبی حلقے آج بھی ان کے کلام کا مطالعہ اور محافل میں تلاوت کر کے ان کی یاد تازہ کرتے ہیں۔ ان کی زندگی اور فن نے اردو ادب کو مستحکم کیا اور مذہبی و اخلاقی جذبے کو عوام کے دلوں میں راسخ کیا۔ اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت فرمائے اور جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔ آمین۔